Qul anad`oo min doonil laahi maa laa yanfa`unaa wa laa yadurrunaa wa nuraddu `alaaa a`qaabina ba`da iz hadaanal laahu kallazis tahwat hush Shayaateenu fil ardi hairaana lahooo ashaabuny yad`oo nahooo ilal huda` tinaa; qul inna hudal laahi huwal hudaa wa umirnaa linuslima li Rabbil `aalameen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
کہو۔ کیا ہم خدا کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکے نہ برا۔ اور جب ہم کو خدا نے سیدھا رستہ دکھا دیا تو (کیا) ہم الٹے پاؤں پھر جائیں؟ (پھر ہماری ایسی مثال ہو) جیسے کسی کو جنات نے جنگل میں بھلا دیا ہو (اور وہ) حیران (ہو رہا ہو) اور اس کے کچھ رفیق ہوں جو اس کو رستے کی طرف بلائیں کہ ہمارے پاس چلا آ۔ کہہ دو کہ رستہ تو وہی ہے جو خدا نے بتایا ہے۔ اور ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہم خدائے رب العالمین کے فرمانبردار ہوں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بگو: آيا سواى اللّه كسى را بخوانيم كه نه ما را سود مىدهد و نه زيان مىرساند؟ و آيا پس از آنكه خدا ما را هدايت كرده است، همانند آن كس كه شيطان گمراهش ساخته و حيران بر روى زمين رهايش كرده، از دين بازگرديم؟ او را يارانى است كه به هدايت ندايش مىدهند كه نزد ما بازگرد. بگو: هدايتى كه از سوى خدا باشد، هدايت واقعى است. و به ما فرمان رسيده كه در برابر پروردگار جهانيان تسليم شويم.
کہو۔ کیا ہم خدا کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکے نہ برا۔ اور جب ہم کو خدا نے سیدھا رستہ دکھا دیا تو (کیا) ہم الٹے پاؤں پھر جائیں؟ (پھر ہماری ایسی مثال ہو) جیسے کسی کو جنات نے جنگل میں بھلا دیا ہو (اور وہ) حیران (ہو رہا ہو) اور اس کے کچھ رفیق ہوں جو اس کو رستے کی طرف بلائیں کہ ہمارے پاس چلا آ۔ کہہ دو کہ رستہ تو وہی ہے جو خدا نے بتایا ہے۔ اور ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہم خدائے رب العالمین کے فرمانبردار ہوں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
اَنَدْعُوْ: کیا ہم پکاریں/عبادت کریں؟
مَا لَا یَنفَعُنَا وَلَا یَضُرُّنَا: جو نہ ہمیں نفع پہنچا سکے نہ نقصان
نُرَدُّ عَلٰی اَعْقَابِنَا: ہم الٹے پاؤں لوٹا دیے جائیں (یعنی کفر کی طرف پلٹ جائیں)
اسْتَهْوَتْهُ الشَّیَاطِیْنُ: شیاطین نے اسے بہکا دیا / اس کی عقل کو اغوا کر لیا
حَیْرَانَ: سرگرداں، بھٹکا ہوا
لَهُ اَصْحَابٌ: اس کے ساتھی ہیں
یَدْعُوْنَهٗ اِلَی الْهُدٰی: اسے راہِ راست کی طرف بلاتے ہیں
لِنُسْلِمَ: تاکہ ہم سرِ تسلیم خم کریں
تفسیر:
اے نبیِ مکرم! آپ ان مشرکین سے فرمائیں جو بتوں کی عبادت پر اصرار کرتے ہیں: کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو پکاریں جن سے نہ کوئی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے نہ نقصان؟ یہ کیسا اندھا پن ہے کہ انسان اپنے خالق و مالک کو چھوڑ کر بےجان پتھروں کے آگے جھکے، جن میں نہ سننے کی طاقت ہے نہ مدد کرنے کی صلاحیت۔
پھر اللہ تعالیٰ اس سے بھی بڑی خرابی کی طرف اشارہ فرماتا ہے: کیا ہم اس ہدایت کے بعد جو اللہ نے ہمیں عطا کی ہے، الٹے پاؤں کفر کی طرف لوٹ جائیں؟ یہ بالکل اس شخص کی مانند ہے جسے شیاطین نے بہکا کر جنگل میں چھوڑ دیا ہو، وہ سرگرداں بھٹک رہا ہو، نہ اسے راستہ سجھائی دے نہ منزل کا پتہ، اور اس کے کچھ سمجھدار ساتھی اسے آواز دے رہے ہوں کہ "ہمارے پاس آؤ، ہم سیدھے راستے پر ہیں" مگر وہ ان کی آواز پر کان نہ دھرے اور گمراہی میں ہی مبتلا رہے۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے جو اسلام کی روشن ہدایت کے بعد شرک کی تاریکی میں واپس جانا چاہتے ہیں۔
اے نبی! آپ فرمائیں کہ اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے، اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ گمراہی ہے۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنے رب العالمین کے سامنے مکمل طور پر سرِ تسلیم خم کر دیں، اسی کی عبادت کریں، اسی کے آگے جھکیں، اور اپنے معاملات میں اسی کے احکام کو مقدم رکھیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ انسان کی فطرت ہدایت کو قبول کرنے والی ہے، لیکن شیطان اسے بہکانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ جب اللہ کسی کو ہدایت دے دے تو اسے مضبوطی سے تھام لینا چاہیے، کیونکہ ہدایت کے بعد گمراہی میں واپس جانا سب سے بڑا نقصان ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کریں، نیک ساتھیوں کی صحبت اختیار کریں جو ہمیں راہِ راست پر قائم رکھیں، اور ان لوگوں کی دعوت پر لبیک کہیں جو ہمیں اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔ یاد رکھیں! جو شخص اللہ کی ہدایت پا لے، اسے کبھی اسے کھونا نہیں چاہیے، کیونکہ یہی کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ آئیے ہم سب اپنے رب کے سامنے جھک جائیں، اسی کی عبادت کریں، اور اسی کی رضا کے طالب بنیں۔
اور جن لوگوں نے اپنےدین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے (اس روز) خدا کےسوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ اور اگر وہ ہر چیز (جو روئے زمین پر ہے بطور) معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب ہے اس لئے کہ کفر کرتے تھے
کہو۔ کیا ہم خدا کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکے نہ برا۔ اور جب ہم کو خدا نے سیدھا رستہ دکھا دیا تو (کیا) ہم الٹے پاؤں پھر جائیں؟ (پھر ہماری ایسی مثال ہو) جیسے کسی کو جنات نے جنگل میں بھلا دیا ہو (اور وہ) حیران (ہو رہا ہو) اور اس کے کچھ رفیق ہوں جو اس کو رستے کی طرف بلائیں کہ ہمارے پاس چلا آ۔ کہہ دو کہ رستہ تو وہی ہے جو خدا نے بتایا ہے۔ اور ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہم خدائے رب العالمین کے فرمانبردار ہوں
اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہو جا تو (حشر برپا) ہوجائے گا ۔ اس کا ارشاد برحق ہے۔ اور جس دن صور پھونکا جائے گا (اس دن) اسی کی بادشاہت ہوگی۔ وہی پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے اور وہی دانا اور خبردار ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔