ترجمہ — Tafsir
ثمود اور عاد نے قارعہ کو جھٹلایا۔
معانی الفاظ:
- ثمود: قوم صالح علیہ السلام۔
- عاد: قوم ہود علیہ السلام۔
- بالقارعہ: قیامت کو قارعہ اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ دلوں کو شدید خوف اور ہیبت سے کچل دے گی، جیسے کوئی سخت چیز کسی چیز پر زور سے ضرب لگائے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو مشہور اور طاقتور قوموں کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے قیامت کے آنے کو سختی سے جھٹلایا۔ ثمود قوم صالح علیہ السلام تھی، اور عاد قوم ہود علیہ السلام تھی۔ یہ دونوں قومیں اپنی قوت اور شان و شوکت میں مثالی تھیں، لیکن جب ان کے پاس اللہ کے رسول آئے اور انہیں قیامت کے دن سے ڈرایا، تو انہوں نے اسے محض ایک جھوٹ اور افسانہ قرار دے دیا۔
قارعہ سے مراد قیامت ہے، کیونکہ وہ دل دہلا دینے والی ہولناک آواز اور حادثہ ہے جو ہر شخص کے دل کو کچل دے گی۔ یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ اس دن کی گھبراہٹ اور خوف دل کو اس طرح جکڑ لے گا جیسے کوئی سخت چیز دل پر رکھ دی گئی ہو۔
یہ آیت ہمیں سبق دیتی ہے کہ دنیا کی طاقت، مال، اولاد اور عروج کسی کو بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتے۔ ثمود اور عاد اپنی طاقت اور تعمیرات پر مغرور تھے، لیکن ان کا انجام عبرتناک تھا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قیامت پر یقین رکھیں اور اس کی تیاری کریں، کیونکہ یہ حق ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔ جو لوگ اسے جھٹلاتے ہیں، وہ اپنے انجام سے کھیل رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان کی سچائی اور عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 2-6 — حاقہ
ترجمہ — حاقہ 4
سورہ حاقہ آیت 4 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کھڑکھڑانے والی (جس) کو ثمود اور عاد (دونوں) نے جھٹلایاسورہ آیت 4/52 — حاقہ الحاقة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حاقہ سنیں, حاقہ ترجمہ, حاقہ mp3, حاقہ pdf. آیت 2–6. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








