اعراف · 131/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا هَٰذِهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُ ۗ أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ۝١٣١
Fa izaa jaaa`at humul hasanatu qaaloo lanaa haazihee wa in tusibhum saiyi`atuny yattaiyaroo bi Moosaa wa mam ma`ah; alaaa innamaa taaa`iruhum `indal laahi wa laakinna aksarahum laa ya`lamoon
📖 اردو ترجمہ
تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں۔ اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے۔ دیکھو ان کی بدشگونی خدا کے ہاں مقرر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الحَسَنَةُ: خوشحالی، فراخی، رزق کی کشادگی، اچھے حالات۔
  • السَّيِّئَةُ: تنگی، قحط، مصیبت، برے حالات۔
  • يَطَّيَّرُوا: نحوست منسوب کرنا، بدشگونی لینا، فال بد لینا۔
  • طَائِرُهُمْ: ان کی قسمت، ان کا مقدر، جو کچھ ان پر آتا ہے۔

تفسیر آیت:

جب فرعون اور اس کی قوم کو خوشحالی اور کشادگی حاصل ہوتی تھی، جب ان کے پاس رزق و دولت آتی تھی، اور حالات اچھے ہوتے تھے، تو وہ کہتے تھے: "یہ تو ہمارا حق ہے، ہم اس کے مستحق ہیں۔" وہ اس نعمت کو اللہ کی طرف سے نہیں مانتے تھے، نہ اس پر شکر ادا کرتے تھے، بلکہ اسے اپنی لیاقت اور اپنی محنت کا نتیجہ سمجھتے تھے۔ لیکن جب ان پر کوئی مصیبت آتی تھی، جیسے قحط، خشک سالی، بیماریاں، یا کوئی اور پریشانی، تو وہ فوراً بدشگونی لیتے تھے اور کہتے تھے: "یہ سب موسٰی علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی نحوست ہے، ان کی وجہ سے ہم پر یہ مصیبتیں آئیں۔"

اللہ تعالیٰ نے ان کی اس غلط سوچ کا رد کرتے ہوئے فرمایا: "سن لو! ان کی قسمت اور ان کا مقدر اللہ کے پاس ہے، یعنی جو کچھ ان پر آتا ہے، خواہ اچھا ہو یا برا، وہ اللہ کی طرف سے ہے، اللہ کے فیصلے اور حکم سے آتا ہے۔" یہ موسٰی علیہ السلام کی نحوست نہیں ہے، بلکہ یہ ان کے اپنے اعمال، ان کے کفر اور ان کی سرکشی کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے کرتوتوں کی سزا دیتا ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ یہ حقیقت نہیں جانتے، کیونکہ وہ جہالت اور گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہیں، ان کی سمجھ پر پردہ پڑا ہوا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے۔ انسان کا حال ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا، کبھی خوشحالی آتی ہے اور کبھی تنگی۔ مومن کا طرزِ عمل یہ ہوتا ہے کہ خوشحالی میں وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور اسے اللہ کا فضل سمجھتا ہے، اور تنگی میں صبر کرتا ہے اور اللہ سے توبہ و استغفار کرتا ہے۔ لیکن منافق اور کافر لوگ نعمت کو اپنی لیاقت سمجھتے ہیں اور مصیبت کو دوسروں کی نحوست قرار دیتے ہیں۔ یہ سوچ سراسر غلط ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھیں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور یہ یقین رکھیں کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ یہی ایمان کی پہچان ہے۔ اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ہمیں اپنے فضل سے نوازے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 129-133 — اعراف

129قَالُوا أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ
وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو
130وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِينَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ
اور ہم نے فرعونیوں کو قحطوں اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں
131فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا هَٰذِهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُ ۗ أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں۔ اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے۔ دیکھو ان کی بدشگونی خدا کے ہاں مقرر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے
132وَقَالُوا مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ آيَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
اور کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس (خواہ) کوئی ہی نشانی لاؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو۔ مگر ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں
133فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ آيَاتٍ مُّفَصَّلَاتٍ فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِمِينَ
تو ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون کتنی کھلی ہوئی نشانیاں بھیجیں۔ مگر وہ تکبر ہی کرتے رہے اور وہ لوگ تھے ہی گنہگار
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
131آیت

ترجمہ — اعراف 131

سورہ اعراف آیت 131 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ…

سورہ آیت 131/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 129–133. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں