Mishary Rashid Alafasy
✓
Mahmoud Khalil Al-Husary
✓
Abdurrahman As-Sudais
✓
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
✓
Abdul Basit Abdul Samad
✓
Ali Al-Hudhaify
✓
Ahmed ibn Ali al-Ajamy
✓
Abu Bakr Ash-Shaatree
✓
Muhammad Ayyoub
✓
Abdullah Basfar
✓
Abdullah Al-Juhani
✓
Maher Al Muaiqly
✓
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الحَسَنَةُ: خوشحالی، فراخی، رزق کی کشادگی، اچھے حالات۔
- السَّيِّئَةُ: تنگی، قحط، مصیبت، برے حالات۔
- يَطَّيَّرُوا: نحوست منسوب کرنا، بدشگونی لینا، فال بد لینا۔
- طَائِرُهُمْ: ان کی قسمت، ان کا مقدر، جو کچھ ان پر آتا ہے۔
تفسیر آیت:
جب فرعون اور اس کی قوم کو خوشحالی اور کشادگی حاصل ہوتی تھی، جب ان کے پاس رزق و دولت آتی تھی، اور حالات اچھے ہوتے تھے، تو وہ کہتے تھے: "یہ تو ہمارا حق ہے، ہم اس کے مستحق ہیں۔" وہ اس نعمت کو اللہ کی طرف سے نہیں مانتے تھے، نہ اس پر شکر ادا کرتے تھے، بلکہ اسے اپنی لیاقت اور اپنی محنت کا نتیجہ سمجھتے تھے۔ لیکن جب ان پر کوئی مصیبت آتی تھی، جیسے قحط، خشک سالی، بیماریاں، یا کوئی اور پریشانی، تو وہ فوراً بدشگونی لیتے تھے اور کہتے تھے: "یہ سب موسٰی علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی نحوست ہے، ان کی وجہ سے ہم پر یہ مصیبتیں آئیں۔"
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس غلط سوچ کا رد کرتے ہوئے فرمایا: "سن لو! ان کی قسمت اور ان کا مقدر اللہ کے پاس ہے، یعنی جو کچھ ان پر آتا ہے، خواہ اچھا ہو یا برا، وہ اللہ کی طرف سے ہے، اللہ کے فیصلے اور حکم سے آتا ہے۔" یہ موسٰی علیہ السلام کی نحوست نہیں ہے، بلکہ یہ ان کے اپنے اعمال، ان کے کفر اور ان کی سرکشی کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے کرتوتوں کی سزا دیتا ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ یہ حقیقت نہیں جانتے، کیونکہ وہ جہالت اور گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہیں، ان کی سمجھ پر پردہ پڑا ہوا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے۔ انسان کا حال ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا، کبھی خوشحالی آتی ہے اور کبھی تنگی۔ مومن کا طرزِ عمل یہ ہوتا ہے کہ خوشحالی میں وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور اسے اللہ کا فضل سمجھتا ہے، اور تنگی میں صبر کرتا ہے اور اللہ سے توبہ و استغفار کرتا ہے۔ لیکن منافق اور کافر لوگ نعمت کو اپنی لیاقت سمجھتے ہیں اور مصیبت کو دوسروں کی نحوست قرار دیتے ہیں۔ یہ سوچ سراسر غلط ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھیں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور یہ یقین رکھیں کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ یہی ایمان کی پہچان ہے۔ اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ہمیں اپنے فضل سے نوازے۔ آمین۔
📜 آیت 129-133 — سورہ اعراف
ترجمہ — اعراف 131
سورہ اعراف آیت 131 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ…سورہ آیت 131/206 — سورہ اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ اعراف سنیں, سورہ اعراف ترجمہ, سورہ اعراف mp3, سورہ اعراف pdf. آیت 129–133. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, September 29, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں


