Fa izaa jaaa`at humul hasanatu qaaloo lanaa haazihee wa in tusibhum saiyi`atuny yattaiyaroo bi Moosaa wa mam ma`ah; alaaa innamaa taaa`iruhum `indal laahi wa laakinna aksarahum laa ya`lamoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں۔ اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے۔ دیکھو ان کی بدشگونی خدا کے ہاں مقرر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون نيكيى نصيبشان مىشد مىگفتند: حق ماست. و چون بديى به آنها مىرسيد، موسى و همراهانش را بدشگون مىدانستند. آگاه باشيد، آن نيك و بد كه به ايشان رسد از خداست، ولى بيشترينشان نمى دانند.
تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں۔ اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے۔ دیکھو ان کی بدشگونی خدا کے ہاں مقرر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الحَسَنَةُ: خوشحالی، فراخی، رزق کی کشادگی، اچھے حالات۔
السَّيِّئَةُ: تنگی، قحط، مصیبت، برے حالات۔
يَطَّيَّرُوا: نحوست منسوب کرنا، بدشگونی لینا، فال بد لینا۔
طَائِرُهُمْ: ان کی قسمت، ان کا مقدر، جو کچھ ان پر آتا ہے۔
تفسیر آیت:
جب فرعون اور اس کی قوم کو خوشحالی اور کشادگی حاصل ہوتی تھی، جب ان کے پاس رزق و دولت آتی تھی، اور حالات اچھے ہوتے تھے، تو وہ کہتے تھے: "یہ تو ہمارا حق ہے، ہم اس کے مستحق ہیں۔" وہ اس نعمت کو اللہ کی طرف سے نہیں مانتے تھے، نہ اس پر شکر ادا کرتے تھے، بلکہ اسے اپنی لیاقت اور اپنی محنت کا نتیجہ سمجھتے تھے۔ لیکن جب ان پر کوئی مصیبت آتی تھی، جیسے قحط، خشک سالی، بیماریاں، یا کوئی اور پریشانی، تو وہ فوراً بدشگونی لیتے تھے اور کہتے تھے: "یہ سب موسٰی علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی نحوست ہے، ان کی وجہ سے ہم پر یہ مصیبتیں آئیں۔"
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس غلط سوچ کا رد کرتے ہوئے فرمایا: "سن لو! ان کی قسمت اور ان کا مقدر اللہ کے پاس ہے، یعنی جو کچھ ان پر آتا ہے، خواہ اچھا ہو یا برا، وہ اللہ کی طرف سے ہے، اللہ کے فیصلے اور حکم سے آتا ہے۔" یہ موسٰی علیہ السلام کی نحوست نہیں ہے، بلکہ یہ ان کے اپنے اعمال، ان کے کفر اور ان کی سرکشی کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے کرتوتوں کی سزا دیتا ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ یہ حقیقت نہیں جانتے، کیونکہ وہ جہالت اور گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہیں، ان کی سمجھ پر پردہ پڑا ہوا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے۔ انسان کا حال ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا، کبھی خوشحالی آتی ہے اور کبھی تنگی۔ مومن کا طرزِ عمل یہ ہوتا ہے کہ خوشحالی میں وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور اسے اللہ کا فضل سمجھتا ہے، اور تنگی میں صبر کرتا ہے اور اللہ سے توبہ و استغفار کرتا ہے۔ لیکن منافق اور کافر لوگ نعمت کو اپنی لیاقت سمجھتے ہیں اور مصیبت کو دوسروں کی نحوست قرار دیتے ہیں۔ یہ سوچ سراسر غلط ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھیں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور یہ یقین رکھیں کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ یہی ایمان کی پہچان ہے۔ اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ہمیں اپنے فضل سے نوازے۔ آمین۔
وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو
تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں۔ اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے۔ دیکھو ان کی بدشگونی خدا کے ہاں مقرر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔