Wa iz anjainaakum min Aali Fir`awna yasoomoo nakum sooo`al `azaab, yuqattiloona abnaaa`akum wa yastahyoona nisaaa`akum; wa fee zaalikum balaaa`um mir Rabbikum `azeem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(اور ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے ہاتھ) سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و شما را از آل فرعون رهانيديم. به عذابهاى سختتان مىآزردند، پسرانتان را مىكشتند و زنانتان را زنده مىگذاشتند و در اين از جانب پروردگارتان آزمايشى بزرگ بود.
(اور ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے ہاتھ) سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یسومونکم: تمہیں چکھاتے تھے، مبتلا کرتے تھے۔
سوء العذاب: انتہائی سخت اور برا عذاب۔
یقتلون: قتل کرتے تھے (تشدید کے ساتھ، یعنی بار بار قتل کرنا)۔
یستحیون: زندہ رکھتے تھے، (یعنی لڑکیوں کو قتل نہ کرکے انہیں زندہ رکھتے تھے تاکہ خدمت گزاری میں استعمال کریں)۔
بلاء: آزمائش، نعمت اور امتحان۔
تفسیر:
اے بنی اسرائیل! اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تمہیں فرعون اور اس کے خاندان کے ظلم و ستم سے نجات دی تھی۔ وہ تمہیں بدترین عذاب میں مبتلا کیے ہوئے تھے — وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کر دیتے تھے اور تمہاری عورتوں (لڑکیوں) کو زندہ رکھ کر انہیں اپنی خدمت گزاری اور ذلت و رسوائی کا نشانہ بناتے تھے۔ یہ انتہائی سخت امتحان تھا، جس میں تمہارے صبر اور اللہ پر بھروسے کی آزمائش تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے تمہیں اس ظلم و جبر سے نجات دی، اور یہ نجات تمہارے لیے اللہ کی طرف سے ایک عظیم نعمت اور بڑی آزمائش تھی، جس کا تقاضا ہے کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو اور اس کی عبادت میں مشغول رہو۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جب بندہ مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتا ہے تو اللہ اسے نجات عطا فرماتا ہے۔ یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ ہم اپنی زندگی کی مشکلات میں اللہ کی طرف رجوع کریں، کیونکہ وہی ہے جو ہر مشکل کو آسان کرنے پر قادر ہے۔ نیز یہ نعمت یاد کرنے کا مقصد شکرگزاری ہے — جب ہم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرتے ہیں تو ہمارا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور ہم اللہ کی اطاعت میں آگے بڑھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ظلم سے نجات دے کر یہ ثابت کیا کہ وہ اپنے مخلص بندوں کی ہمیشہ مدد کرتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی سخت ہوں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کی نعمتوں کو یاد کریں اور اس کی عبادت کو اپنا اولین مقصد بنائیں۔
(اور ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے ہاتھ) سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی
اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کی میعاد مقرر کی۔ اور اس دس (راتیں) اور ملا کر اسے پورا (چلّہ) کردیا تو اس کے پروردگار کی چالیس رات کی میعاد پوری ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میرے (کوہِٰ طور پر جانے کے) بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو (ان کی) اصلاح کرتے رہنا ٹھیک اور شریروں کے رستے نہ چلنا
اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر (کوہ طور) پر پہنچے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار (بھی) دیکھوں۔ پروردگار نے کہا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔ جب ان کا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انوارِ ربانی) نے اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانے والے ہیں ان میں سب سے اول ہوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔