(اور یہ بھی) کہا کہ بھلا میں خدا کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَبْغِيكُمْ: میں تمہارے لیے تلاش کروں، چنوں یا پسند کروں۔
إِلَٰهًا: معبود، جس کی عبادت کی جائے۔
فَضَّلَكُمْ: تمہیں فضیلت دی، برتری عطا کی۔
الْعَالَمِينَ: اپنے زمانے کی تمام مخلوقات اور قوموں پر۔
تفسیر:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس وقت تنبیہ کی جب انہوں نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو بت پرستی کی طرف مائل دیکھا، یا جب انہوں نے کسی اور معبود کی خواہش ظاہر کی۔ آپ نے نہایت ہی سخت اور مؤثر انداز میں فرمایا: "کیا میں تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی اور معبود تلاش کروں؟" یعنی تم مجھ سے ایسی چیز مانگ رہے ہو جو سراسر جہالت اور گمراہی ہے۔ کیا میں تمہیں اس ذات کی عبادت سے ہٹا کر کسی اور کی طرف لے جاؤں جو خود تمہارا خالق اور مالک ہے؟
پھر آپ نے اس بات کی دلیل دی کہ "اللہ نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے" یعنی اس نے تمہیں اپنے زمانے کی تمام قوموں پر برتری عطا کی، تم میں انبیاء بھیجے، تمہارے دشمنوں (فرعون اور اس کی قوم) کو ہلاک کیا، تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا، اور تمہیں ایسی نشانیاں دکھائیں جو کسی اور قوم کو نہیں دی گئی تھیں۔ اس کے باوجود تم ایسا کیسے چاہ سکتے ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور کو معبود بناؤ؟ یہ نہایت ہی ناشکری اور احمقانہ حرکت ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور فضیلتیں ہم پر بے شمار ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان نعمتوں کو یاد کر کے اللہ کی عبادت میں یکسو ہو جائیں، نہ کہ اس کے سوا کسی اور کی طرف رجوع کریں۔ جس قوم کو اللہ نے اتنی بزرگی دی، اسے چاہیے تھا کہ شکر ادا کرتی، لیکن اس نے بت پرستی کا مطالبہ کیا۔ آج بھی بہت سے لوگ اللہ کی نعمتوں کو بھول کر غیر اللہ سے مدد مانگتے ہیں، حالانکہ اللہ ہی ہے جو ہمیں فضیلت دیتا ہے، رزق دیتا ہے، اور ہر مشکل میں کام آتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں توحید کو مضبوط کرنا چاہیے اور اللہ کے سوا ہر معبود سے بیزاری کا اظہار کرنا چاہیے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں کامیابی اور سربلندی تک پہنچاتا ہے۔
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں کے پاس جا پہنچے جو اپنے بتوں (کی عبادت) کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ (بنی اسرائیل) کہنے لگے کہ موسیٰ جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں۔ ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دو۔ موسیٰ نے کہا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو
(اور ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے ہاتھ) سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی
اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کی میعاد مقرر کی۔ اور اس دس (راتیں) اور ملا کر اسے پورا (چلّہ) کردیا تو اس کے پروردگار کی چالیس رات کی میعاد پوری ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میرے (کوہِٰ طور پر جانے کے) بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو (ان کی) اصلاح کرتے رہنا ٹھیک اور شریروں کے رستے نہ چلنا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔