ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- سَكَتَ: خاموش ہو گیا، ٹھنڈا ہو گیا، زائل ہو گیا۔
- الْأَلْوَاحَ: وہ تختیاں (تختے) جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو دی تھیں۔
- نُسْخَتِهَا: اس میں لکھی ہوئی چیزیں، اس کا مضمون۔
- يَرْهَبُونَ: ڈرتے ہیں، خوف رکھتے ہیں۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور ان کا دل مطمئن ہوا، تو انہوں نے وہ تختیاں اٹھا لیں جو غصے کی حالت میں انہوں نے پھینک دی تھیں۔ ان تختیوں میں جو کچھ لکھا ہوا تھا، وہ لوگوں کے لیے ہدایت اور گمراہی سے نجات کا ذریعہ تھا، اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف کھاتے ہیں۔ یہ ہدایت اور رحمت صرف انہیں نصیب ہوتی ہے جو اللہ کے سامنے عاجزی اور خشوع اختیار کرتے ہیں، اور اپنے رب کی نافرمانی سے ڈرتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ غصہ انسان کو اندھا بنا دیتا ہے، یہاں تک کہ نبی بھی اس سے محفوظ نہیں رہے، لیکن جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دوبارہ اللہ کی کتاب کو تھاما اور اسے مضبوطی سے پکڑ لیا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ غصے کی حالت میں کوئی فیصلہ نہ کریں، بلکہ ٹھنڈے دل سے قرآن و سنت کو اپنائیں، کیونکہ قرآن ہی وہ کتاب ہے جو ہمیں ہدایت دیتی ہے اور ہمارے لیے رحمت ہے، بشرطیکہ ہم اللہ سے ڈریں اور اس کے احکام پر عمل کریں۔ اللہ کی رحمت انہی لوگوں کے لیے ہے جو اس سے ڈرتے ہیں، اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کی اطاعت میں اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ آئیے ہم بھی اپنے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا کریں، تاکہ ہم قرآن کی ہدایت اور رحمت سے مستفید ہو سکیں۔
📜 آیت 152-156 — اعراف
ترجمہ — اعراف 154
سورہ اعراف آیت 154 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات) کی…سورہ آیت 154/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 152–156. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








