ترجمہ — Tafsir
﴿وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ﴾
معانی الفاظ:
- ذَرَأْنَا: ہم نے پیدا کیا۔
- لِجَهَنَّمَ: جہنم کے لیے۔
- لَا يَفْقَهُونَ: سمجھتے نہیں۔
- لَا يُبْصِرُونَ: دیکھتے نہیں۔
- لَا يَسْمَعُونَ: سنتے نہیں۔
- الْأَنْعَامِ: چوپائے، جانور۔
- أَضَلُّ: زیادہ گمراہ۔
- الْغَافِلُونَ: غفلت میں ڈوبے ہوئے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایک انتہائی اہم حقیقت بیان فرمائی ہے کہ ہم نے جہنم کے لیے جنوں اور انسانوں میں سے بہت سے افراد پیدا کیے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ کا ازلی علم تھا کہ وہ اپنے اختیار سے کفر اور گناہ کا راستہ چنیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل، آنکھیں اور کان دیے، لیکن انہوں نے ان نعمتوں کو غلط استعمال کیا۔
ان کے پاس دل ہیں مگر وہ اس سے حق کو نہیں سمجھتے، نہ وہ اللہ کے احکام پر غور کرتے ہیں، نہ آخرت کے ثواب اور عذاب کا کوئی خوف ان کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ اللہ کی نشانیوں کو نہیں دیکھتے، نہ آسمان و زمین کی تخلیق پر غور کرتے ہیں، نہ اللہ کی قدرت کے مظاہر سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ قرآن کی آیات کو غور سے نہیں سنتے، نہ نصیحت قبول کرتے ہیں، نہ وعظ و پند سے کوئی اثر لیتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ ان کی مثال بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جانوروں جیسے ہیں، بلکہ جانوروں سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔ کیونکہ جانور اپنی فطرت کے مطابق اپنے فائدے اور نقصان کو سمجھتے ہیں، وہ اپنے چرنے کی جگہ پہچانتے ہیں، اپنے رہنے والے سے مانوس ہوتے ہیں، اور خطرے سے بھاگتے ہیں۔ لیکن یہ انسان اپنی عقل اور سمجھ کے باوجود حق کو قبول نہیں کرتے، اپنے نقصان کو سمجھتے ہوئے بھی اس کی طرف بڑھتے ہیں، اور اپنے فائدے کو جانتے ہوئے بھی اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
یہی لوگ حقیقی معنوں میں غافل ہیں، کیونکہ ان کی غفلت نے ان کے دل، آنکھ اور کان سب پر پردہ ڈال دیا ہے۔ وہ اللہ کی عبادت سے غافل ہیں، آخرت کی فکر سے غافل ہیں، اور اپنی اصلاح سے غافل ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل، آنکھیں اور کان نعمت کے طور پر عطا کیے ہیں، تاکہ ہم ان سے اللہ کی آیات پر غور کریں، اس کی نشانیوں سے عبرت حاصل کریں، اور اس کے کلام کو سمجھ کر اس پر عمل کریں۔ یہ نعمتیں ہمارے لیے آزمائش ہیں، اگر ہم انہیں صحیح راستے پر استعمال کریں تو یہ ہمارے لیے رحمت بن جائیں گی، اور اگر ہم انہیں غلط استعمال کریں یا ان سے غفلت برتیں تو یہی نعمتیں ہمارے خلاف گواہی دیں گی۔
آئیے ہم اپنے دل کو اللہ کے ذکر سے روشن کریں، اپنی آنکھوں کو اللہ کی نشانیوں پر غور کرنے کے لیے استعمال کریں، اور اپنے کانوں کو قرآن اور نصیحت سننے کے لیے کھولیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل نہ کرے جو جانوروں سے بھی بدتر ہیں، بلکہ ہمیں ان بندوں میں شامل فرمائے جو اپنی عقل، آنکھ اور کان کو اس کی اطاعت میں استعمال کرتے ہیں۔ آمین۔
📜 آیت 177-181 — اعراف
ترجمہ — اعراف 179
سورہ اعراف آیت 179 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے…سورہ آیت 179/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 177–181. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








