اعراف · 30/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيۡهِمُ ٱلضَّلَٰلَةُۚ إِنَّهُمُ ٱتَّخَذُواْ ٱلشَّيَٰطِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَيَحۡسَبُونَ أَنَّهُم مُّهۡتَدُونَ  ۝٣٠
Fareeqan hadaa wa fareeqan haqqa `alaihimud dalaalah; innahumut takhazush Shayaateena awliyaaa`a min doonil laahi wa yahsaboona annnahum muhtadoon
📖 اردو ترجمہ
ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلَالَةُ ۗ إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ اللَّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ

معانی الفاظ:

  • فَرِيقًا: ایک گروہ، ایک جماعت۔
  • هَدَىٰ: ہدایت دی، راہ دکھائی۔
  • حَقَّ عَلَيْهِمُ: ان پر ثابت ہو گئی، لازم ہو گئی۔
  • الضَّلَالَةُ: گمراہی، راہِ راست سے بھٹکنا۔
  • أَوْلِيَاءَ: دوست، مددگار، سرپرست۔
  • مِن دُونِ اللَّهِ: اللہ کو چھوڑ کر، اللہ کے سوا۔
  • يَحْسَبُونَ: وہ سمجھتے ہیں، وہ خیال کرتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا ہے: ایک گروہ وہ ہے جسے اللہ نے اپنی توفیق سے ہدایت دی، ان کے دلوں کو ایمان کے لیے کھول دیا، ان کے قدم صراطِ مستقیم پر جمائے اور انہیں وہ توفیق عطا کی جو گمراہی کے تمام راستوں سے بچاتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی دعوت کو قبول کیا، اس کی کتاب کو مانا اور اس کے رسول کی اتباع کی۔

دوسرا گروہ وہ ہے جن پر گمراہی ثابت ہو چکی ہے، یعنی اللہ نے انہیں ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا کیونکہ انہوں نے خود حق کو ٹھکرایا اور باطل کو اپنا لیا۔ یہ گمراہی ان پر اس لیے لازم آئی کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیاطین کو اپنا دوست اور سرپرست بنا لیا۔ انہوں نے شیطان کے حکموں کو مانا، اس کی پیروی کی اور اللہ کی نافرمانی پر کمر بستہ ہو گئے۔

سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی اس حالت کو گمراہی نہیں سمجھتے، بلکہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ خود ہدایت یافتہ ہیں اور سیدھے راستے پر چل رہے ہیں۔ ان کا یہ گمان ان کے لیے اور بھی خطرناک ہے کیونکہ وہ اپنی غلطی کو محسوس نہیں کرتے اور نہ ہی اس سے توبہ کرتے ہیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے۔ لیکن اللہ کا یہ فیصلہ عدل پر مبنی ہے، وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ جو لوگ حق کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں، اللہ ان کی مدد کرتا ہے اور جو لوگ باطل کو اپناتے ہیں اور شیطان کی پیروی کرتے ہیں، اللہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔

یہ آیت ہمیں شیطان کے دھوکے سے بچنے کی تلقین کرتی ہے۔ شیطان اپنے پیروکاروں کو یہی سکھاتا ہے کہ وہ ہدایت پر ہیں، حالانکہ وہ گمراہی کی گہرائی میں گرے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ قرآن و سنت کی روشنی میں کریں، نہ کہ اپنی خواہشات اور شیطان کے وسوسوں کی بنیاد پر۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سچی ہدایت عطا فرمائے، ہمیں شیطان کے دھوکے سے محفوظ رکھے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو صراطِ مستقیم پر چلتے ہیں اور اپنی آخرت کو سنوارتے ہیں۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 28-32 — اعراف

28وَإِذَا فَعَلُواْ فَٰحِشَةً قَالُواْ وَجَدۡنَا عَلَيۡهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَنَا بِهَاۗ قُلۡ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأۡمُرُ بِٱلۡفَحۡشَآءِۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ 
اور جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور خدا نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو خدا بےحیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ بھلا تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں
29قُلۡ أَمَرَ رَبِّي بِٱلۡقِسۡطِۖ وَأَقِيمُواْ وُجُوهَكُمۡ عِندَ كُلِّ مَسۡجِدٍ وَٱدۡعُوهُ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَۚ كَمَا بَدَأَكُمۡ تَعُودُونَ 
کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا (قبلے کی طرف) رخ کیا کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا ہوگے
30فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيۡهِمُ ٱلضَّلَٰلَةُۚ إِنَّهُمُ ٱتَّخَذُواْ ٱلشَّيَٰطِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَيَحۡسَبُونَ أَنَّهُم مُّهۡتَدُونَ 
ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں
31۞ يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ خُذُواْ زِينَتَكُمۡ عِندَ كُلِّ مَسۡجِدٍ وَكُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ وَلَا تُسۡرِفُوٓاْۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ 
اے نبی آدم! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزّین کیا کرو اور کھاؤ اور پیؤ اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا
32قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِينَةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِيٓ أَخۡرَجَ لِعِبَادِهِۦ وَٱلطَّيِّبَٰتِ مِنَ ٱلرِّزۡقِۚ قُلۡ هِيَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا خَالِصَةً يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٍ يَعۡلَمُونَ 
پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے (پینے) کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن خاص ان ہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
30آیت

ترجمہ — اعراف 30

سورہ آیت 30/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 28–32. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں