اے نبی آدم! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزّین کیا کرو اور کھاؤ اور پیؤ اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
زینت: لباس، جوڑا، آرائش کا سامان۔
مسجد: ہر وہ جگہ جہاں نماز پڑھی جائے، نیز بیت اللہ کا طواف۔
اسراف: حد سے تجاوز کرنا، ضرورت سے زیادہ کھانا پینا، یا حلال کو چھوڑ کر حرام کی طرف جانا۔
تفسیر:
اے اولادِ آدم! جب تم نماز پڑھنے یا طواف کرنے کے لیے مسجد میں جاؤ تو اپنی زینت اختیار کرو، یعنی اپنے جسم کو ڈھانپنے والا صاف ستھرا لباس پہنو، اور اس طرح تیار ہو کر آؤ جو شریعت نے پسند کیا ہے۔ یہ حکم اس لیے بھی آیا کہ جاہلیت کے زمانے میں کچھ لوگ ننگے ہو کر طواف کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس بری عادت سے منع فرمایا۔
ساتھ ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کھاؤ اور پیو ان حلال اور پاکیزہ چیزوں میں سے جو میں نے تمہیں عطا کی ہیں، لیکن اس میں بھی حد سے تجاوز نہ کرو۔ نہ ضرورت سے زیادہ کھاؤ، نہ فضول خرچی کرو، اور نہ حلال کو چھوڑ کر حرام کی طرف جاؤ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت نہیں کرتا جو حد سے بڑھ جاتے ہیں، چاہے وہ کھانے پینے میں ہو یا دوسرے معاملات میں۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام دینِ فطرت ہے، جو نہ تو دنیا کو چھوڑنے کا حکم دیتا ہے اور نہ ہی اس میں غرق ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ بلکہ ہمیں میانہ روی اور اعتدال کا راستہ دکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے کھانے پینے کی حلال چیزیں پیدا کیں، اور ہمیں ان سے لطف اندوز ہونے کا حکم دیا، لیکن اس کے ساتھ ہی اسراف سے منع کیا، کیونکہ اسراف نہ صرف جسم کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ معاشرے میں بے اعتدالی اور بے برکتی کا سبب بھی بنتا ہے۔
آئیے ہم اس آیت پر عمل کریں: نماز کے لیے صاف ستھرا لباس پہنیں، مسجد میں باوقار انداز میں حاضر ہوں، کھانے پینے میں میانہ روی اختیار کریں، اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں۔ یاد رکھیں، اللہ اعتدال پسندوں سے محبت کرتا ہے اور انہیں برکت عطا فرماتا ہے۔
کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا (قبلے کی طرف) رخ کیا کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا ہوگے
ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں
پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے (پینے) کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن خاص ان ہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے
کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائی کی باتوں کو ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے۔ اور اس کو بھی کہ تم کسی کو خدا کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس کو بھی کہ خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔