Qaala qad waqa`a alaikum mir Rabbikum rijsunw wa ghadab, atujaadiloonanee feee asmaaa`in sammaitumoohaaa antum wa aabaaa`ukum maa nazzalal laahu bihaa min sultaan; fantazirooo innee ma`akum minal muntazireen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
ہود نے کہا تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب کا (نازل ہونا) مقرر ہو چکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (اپنی طرف سے) رکھ لئے ہیں۔ جن کی خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ تو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
گفت: عذاب و خشم پروردگارتان حتماً بر شما نازل خواهد شد. آيا در باره اين بتهايى كه خود و پدرانتان بدين نامها ناميدهايد و خدا هيچ دليلى بر آنها نازل نساخته است، با من ستيزه مىكنيد؟ به انتظار بمانيد من هم با شما به انتظار مىمانم.
ہود نے کہا تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب کا (نازل ہونا) مقرر ہو چکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (اپنی طرف سے) رکھ لئے ہیں۔ جن کی خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ تو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
رِجْسٌ: عذاب، پلیدی اور خباثت۔
غَضَبٌ: غضب، سختی اور ناراضگی۔
سُلْطَانٌ: دلیل، برہان اور ثبوت۔
فَانتَظِرُوا: انتظار کرو، راہ دیکھو۔
تفسیر:
حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کے اس گستاخانہ رویے اور ضد پر انہیں سخت جواب دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غضب کا فیصلہ صادر ہو چکا ہے، اور یہ عذاب اب تم پر واقع ہونے والا ہے۔ پھر انہوں نے قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: کیا تم مجھ سے ان بے جان چیزوں کے بارے میں جھگڑتے ہو جنہیں تم نے اور تمہارے باپ دادا نے محض اپنی خواہش سے "آلہٰ" کا نام دے رکھا ہے؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں کوئی دلیل یا ثبوت نازل نہیں کیا۔ یہ نام صرف تمہاری اپنی ایجاد ہیں، جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہ مخلوق ہیں، نہ انہیں نقصان پہنچانے کی طاقت ہے نہ نفع دینے کی۔ عبادت کے لائق صرف وہی ہے جو خالق اور مالک ہو۔
آخر میں حضرت ہود علیہ السلام نے نہایت مؤثر انداز میں انہیں ڈرایا اور فرمایا: "تم عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے، تو اب اس کا انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں شامل ہوں۔" یہ جملہ انتہائی سخت تہدید اور وعید ہے، جو ان کے ایمان اور یقین کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق پر قائم رہنے والے کو کبھی خوف نہیں ہوتا، چاہے مخالفین کتنے ہی زیادہ ہوں۔ حضرت ہود علیہ السلام نے باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا اور نہ ہی مصلحت کا راستہ اپنایا۔ یہ ہمارے لیے درس ہے کہ ہمیں اپنے عقیدے اور ایمان پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہیے، اور باطل سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے، اور باطل کا انجام ہمیشہ ذلت اور رسوائی ہے۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو شرک اور بدعات سے پاک کریں اور صرف اللہ کی عبادت کریں، کیونکہ وہی واحد معبود ہے جس کی عبادت کا حق ہے۔
کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو تو کرو جب اس نے تم کو قوم نوح کے بعد سردار بنایا۔ اور تم کو پھیلاؤ زیادہ دیا۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو۔ تاکہ نجات حاصل کرو
وہ کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا ہی کی عبادت کریں۔ اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں ان کو چھوڑ دیں؟ تو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے لے آؤ
ہود نے کہا تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب کا (نازل ہونا) مقرر ہو چکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (اپنی طرف سے) رکھ لئے ہیں۔ جن کی خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ تو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ (تو) صالح نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معجزہ آ چکا ہے۔ (یعنی) یہی خدا کی اونٹنی تمہارے لیے معجزہ ہے۔ تو اسے (آزاد) چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا۔ ورنہ عذابِ الیم میں تمہیں پکڑ لے گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔