اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اس لیے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
خَفَّتْ مَوَازِينُهُ: اس کے نیکیوں کے پلڑے ہلکے ہو جائیں (یعنی برائیاں غالب آ جائیں)۔
خَسِرُوا أَنفُسَهُم: انہوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈال دیا۔
يَظْلِمُونَ: ظلم کرتے تھے، یعنی حق کو جھٹلاتے تھے اور آیتوں کے ساتھ زیادتی کرتے تھے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عدل و انصاف کا مکمل نظام قائم کرے گا۔ ہر انسان کے اعمال تولے جائیں گے۔ جن لوگوں کے نیک اعمال کے پلڑے بھاری ہوں گے وہ کامیاب ہوں گے، لیکن جن کے برے اعمال زیادہ ہوں گے اور نیکیوں کے پلڑے ہلکے پڑ جائیں گے، وہ سخت نقصان میں رہیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو تباہی میں ڈال دیا، کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا، ان پر ایمان نہ لائے اور ان کے ساتھ ظلم کیا۔ انہوں نے حق کو چھوڑ کر باطل کو اختیار کیا اور اپنے لیے جہنم کا سامان کیا۔
یہاں "خسارہ" صرف دنیا کا نہیں بلکہ آخرت کا عظیم خسارہ ہے، جب انسان اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال دے اور اللہ کی رحمت سے محروم ہو جائے۔ یہ سب کچھ ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، کیونکہ انہوں نے اللہ کی نشانیوں کو دیکھ کر بھی انکار کیا اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہر عمل کا حساب ہوگا، کوئی عمل چھوٹا یا بڑا ضائع نہیں ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی میں نیکیوں کو بڑھائیں اور برائیوں سے بچیں۔ اللہ کی آیتوں پر غور کریں اور ان پر عمل کریں، کیونکہ جو لوگ اللہ کی نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ آخرت میں سخت نقصان اٹھائیں گے۔ آج ہمارے پاس موقع ہے کہ اپنے اعمال کو سنواریں، توبہ کریں اور اللہ کی رحمت کے طالب بنیں۔ اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے، وہ ہر اس شخص کو بخش دیتا ہے جو خلوص دل سے اس کی طرف رجوع کرے۔
اور ہم ہی نے تم کو (ابتدا میں مٹی سے) پیدا کیا پھر تمہاری صورت شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا آدم کے آگے سجدہ کرو تو (سب نے) سجدہ کیا لیکن ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں (شامل) نہ ہوا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔