ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- استقاموا: سیدھے رہے، ثابت قدم رہے۔
- الطریقۃ: راہ، طریقہ، یہاں مراد راہِ اسلام اور دینِ حق ہے۔
- غدقًا: بہت زیادہ، کثیر، وافر پانی۔
تفسیرِ آیہ:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک اہم حقیقت بیان فرمائی ہے کہ اگر لوگ (خواہ وہ جن ہوں یا انسان) راہِ اسلام پر سیدھے اور ثابت قدم رہیں، اور اس راہ سے ذرا بھی انحراف نہ کریں، تو اللہ تعالیٰ انہیں کثرت سے رزق عطا فرمائے گا۔ "ماءً غدقًا" یعنی وافر اور بہت زیادہ پانی، جو کہ رزق اور برکت کی علامت ہے۔ یہ وعدہ صرف پانی تک محدود نہیں، بلکہ یہ تمام دنیاوی نعمتوں اور برکتوں کی طرف اشارہ ہے۔
اس آیت کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ اہلِ مکہ پر قحط اور خشک سالی کا دور آیا تھا، سات سال تک بارش نہیں ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ راہِ اسلام پر استقامت اختیار کر لیں تو میں ان پر رزق کے دروازے کھول دوں گا اور انہیں وافر پانی عطا کروں گا۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے استقامت کو رزق کی فراوانی سے مشروط کیا ہے۔ استقامت کا مطلب صرف ایمان لانا نہیں، بلکہ ایمان پر ثابت قدم رہنا، احکامِ الٰہی پر عمل کرنا، اور راہِ حق سے کبھی منحرف نہ ہونا ہے۔ جب بندہ راہِ حق پر ثابت قدم رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے زمین وآسمان کی برکتیں کھول دیتا ہے۔
یہ وعدہ صرف دنیاوی رزق تک محدود نہیں، بلکہ اس میں دینی برکتیں، قلبی سکون، روحانی ترقی اور آخرت کی کامیابی بھی شامل ہے۔ جو لوگ راہِ اسلام پر چلتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں بھی عزت اور رزق کی فراوانی عطا فرماتا ہے اور آخرت میں بھی کامیابی نصیب کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیتِ کریمہ سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ اسلام صرف آخرت کی کامیابی کا ذریعہ نہیں، بلکہ دنیاوی زندگی کی برکتوں کا بھی ضامن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ اگر وہ راہِ حق پر ثابت قدم رہیں گے تو انہیں دنیا میں بھی وافر رزق اور برکتیں عطا ہوں گی۔ یہ اللہ کی رحمت اور فضل ہے کہ اس نے استقامت کو اتنی بڑی نعمت سے جوڑ دیا۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ رزق کی فراوانی کے لیے مختلف ذرائع تلاش کرتے ہیں، لیکن اصل ذریعہ اللہ کی طرف رجوع اور راہِ حق پر استقامت ہے۔ اگر ہم اپنی زندگیوں کو اسلام کے مطابق ڈھالیں، نماز قائم کریں، زکوٰۃ دیں، اور اللہ کے احکام پر عمل کریں، تو اللہ تعالیٰ ہمارے لیے رزق کے دروازے کھول دے گا۔
یاد رکھیں، یہ وعدہ صرف بارش اور پانی تک محدود نہیں، بلکہ ہر قسم کی برکت اور رزق کی فراوانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے بندوں کو ایک آسان راستہ بتایا ہے — استقامت — جس پر چل کر وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ آئیے ہم سب اپنی زندگیوں کو راہِ اسلام پر استوار کریں اور اللہ کے اس وعدے پر یقین رکھیں، کیونکہ اللہ کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے۔
📜 آیت 14-18 — جن
ترجمہ — جن 16
سورہ آیت 16/28 — جن الجن (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: جن سنیں, جن ترجمہ, جن mp3, جن pdf. آیت 14–18. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








