بِهِ: اس کی وجہ سے، اس (دن) کے ہیبت اور شدت کے باعث۔
وَعْدُهُ: اللہ تعالیٰ کا وعدہ (قیامت کے دن کا آنا)۔
مَفْعُولًا: واقع ہونے والا، ضرور پورا ہونے والا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس دن آسمان پھٹ جائے گا، شق ہو جائے گا، اور یہ اس دن کی شدت اور ہیبت کی وجہ سے ہو گا۔ جب آسمان جیسی مضبوط اور عظیم مخلوق اس دن کی دہشت سے پھٹ جائے گی، تو انسان کا حال کیا ہو گا؟ یہ اس دن کی عظمت اور ہولناکی کا بیان ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ قیامت آئے گی، حساب ہو گا، اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ ملے گا، یہ وعدہ یقینی اور لازمی ہے، اس میں کوئی شک نہیں، اور نہ ہی اس میں کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہمیشہ سچا اور پورا ہونے والا ہوتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اس دن کے لیے تیاری کریں۔ جب آسمان جیسی عظیم مخلوق اس دن کی ہیبت سے پھٹ جائے گی، تو ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن اور سنت کے ذریعے راستہ دکھایا ہے، اور اس دن کے آنے کا وعدہ سچا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزاریں، نیک اعمال کریں، اور برائیوں سے بچیں، تاکہ اس دن ہم کامیاب ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے، اور توبہ کرنے والوں کو قبول کرتا ہے، لہٰذا آج ہی اپنی زندگی سنوار لیں، کیونکہ کل کا دن ہمارے اختیار میں نہیں۔
تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھ کے لوگ (کبھی) دو تہائی رات کے قریب اور (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) تہائی رات قیام کیا کرتے ہو۔ اور خدا تو رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی۔ پس جتنا آسانی سے ہوسکے (اتنا) قرآن پڑھ لیا کرو۔ اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں اور بعض خدا کے فضل (یعنی معاش) کی تلاش میں ملک میں سفر کرتے ہیں اور بعض خدا کی راہ میں لڑتے ہیں۔ تو جتنا آسانی سے ہوسکے اتنا پڑھ لیا کرو۔ اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة ادا کرتے رہو اور خدا کو نیک (اور خلوص نیت سے) قرض دیتے رہو۔ اور جو عمل نیک تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو خدا کے ہاں بہتر اور صلے میں بزرگ تر پاؤ گے۔ اور خدا سے بخشش مانگتے رہو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔