ترجمہ — Tafsir
فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ
معانی الفاظ:
- أَنَا رَبُّكُمُ: میں تمہارا رب ہوں۔
- الْأَعْلَىٰ: سب سے بلند و بالا، جس سے بڑا کوئی نہیں۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اپنی رسالت کا پیغام پہنچایا، اور اس کے سامنے معجزات پیش کیے، تو فرعون نے اپنی سرکشی اور تکبر میں کہا: "میں تمہارا سب سے بلند رب ہوں۔" اس کا مطلب یہ تھا کہ میں تمہارا آقا اور مالک ہوں، میرے سوا کوئی اور رب نہیں، اور نہ ہی کوئی مجھ سے بڑا ہے۔ اس نے اپنے آپ کو الوہیت کا درجہ دے دیا اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا انکار کر دیا۔
یہ فرعون کا وہ مقام تھا جہاں اس نے اپنے کفر اور سرکشی کی انتہا کر دی، اور اپنی قوم کو اپنی اطاعت کی دعوت دی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے اس دعوے کا جواب اسے ذلیل و رسوا کر کے دیا، اور اسے دریا میں غرق کر کے اسے اور اس کی قوم کو عبرت کا نشان بنا دیا۔
موعظت و نصیحت:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ تکبر اور سرکشی انسان کو کہاں پہنچا دیتی ہے۔ فرعون جیسا طاقتور بادشاہ، جو اپنے آپ کو رب کہنے کی جسارت کر بیٹھا، اللہ کی قدرت کے سامنے بے بس ہو کر دریا میں غرق ہو گیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رب کے سامنے عاجزی اور فروتنی اختیار کریں، اور کبھی اپنے آپ کو دوسروں سے برتر نہ سمجھیں۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ ہی واحد رب ہے، جس کی ذات سے بڑا کوئی نہیں، اور اسی کی اطاعت ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ جو لوگ اس کی اطاعت سے منہ موڑتے ہیں، ان کا انجام فرعون جیسا ہی ہوتا ہے۔ اللہ ہمیں عاجزی اور اطاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 22-26 — نازعات
ترجمہ — نازعات 24
سورہ آیت 24/46 — نازعات النازعات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نازعات سنیں, نازعات ترجمہ, نازعات mp3, نازعات pdf. آیت 22–26. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








