ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- طَغَىٰ: حد سے تجاوز کرنا، سرکشی کرنا، کفر و ضلالت میں حد سے بڑھ جانا۔
تفسیر:
جب قیامت کا دن آئے گا اور ہر انسان اپنے اعمال کے ساتھ پیش کیا جائے گا، تو لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر فرما رہے ہیں جنہوں نے اپنے رب کے احکام سے سرکشی کی، کفر و ضلالت میں حد سے تجاوز کیا، اور اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی نافرمانی میں حد سے بڑھ کر ظلم و زیادتی کی، حق کو جھٹلایا اور باطل پر ڈٹے رہے۔ ان کی سرکشی صرف اللہ کے ساتھ نہیں تھی بلکہ اللہ کے بندوں کے ساتھ بھی تھی، انہوں نے اپنے نفس کی پیروی کی اور آخرت کو فراموش کر کے صرف دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔
دعوتی پہلو:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں واضح فرما دیا کہ سرکشی اور طغیان کا انجام کیا ہوگا۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی پیغام ہے کہ اللہ کا دروازہ توبہ کے لیے کھلا ہے۔ جب تک انسان زندہ ہے، وہ اپنی سرکشی سے باز آ سکتا ہے، اپنے رب کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے، وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں، اپنے اعمال پر غور کریں، اور اگر کہیں ہم سے سرکشی یا نافرمانی ہوئی ہے تو فوراً توبہ کریں۔ اللہ کی رحمت اس کی غضب سے کہیں زیادہ وسیع ہے، اور وہ اپنے توبہ کرنے والے بندوں سے بے حد محبت کرتا ہے۔ آئیے ہم سب اپنے رب کے سامنے جھک جائیں، اس کی اطاعت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائیں، اور اس کے فضل و رحمت کے امیدوار بنیں۔
📜 آیت 35-39 — نازعات
ترجمہ — نازعات 37
سورہ نازعات آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو جس نے سرکشی کیسورہ آیت 37/46 — نازعات النازعات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نازعات سنیں, نازعات ترجمہ, نازعات mp3, نازعات pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








