Wa izaa maaa unzilat Sooratun nazara ba`duhum ilaa ba`din hal yaraakum min ahadin summman sarafoo; sarafal laahu quloobahum bi annahum qawmul laa yafqahoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگتے ہیں (اور پوچھتے ہیں کہ) بھلا تمہیں کوئی دیکھتا ہے پھر پھر جاتے ہیں۔ خدا نے ان کے دلوں کو پھیر رکھا ہے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و چون سورهاى نازل شود، بعضى به بعضى ديگر نگاه مىكنند: آيا كسى شما را مىبيند؟ و باز مىگردند. خدا دلهايشان را از ايمان منصرف ساخته، زيرا مردمى نافهمند.
اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگتے ہیں (اور پوچھتے ہیں کہ) بھلا تمہیں کوئی دیکھتا ہے پھر پھر جاتے ہیں۔ خدا نے ان کے دلوں کو پھیر رکھا ہے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
نظر بعضهم إلى بعض: ایک دوسرے کی طرف دیکھنا، اشاروں کنایوں سے باہم مشورہ کرنا۔
هل يراکم من أحد: کیا کوئی تمہیں دیکھ رہا ہے؟
انصرفوا: وہاں سے چلے گئے، مجلس چھوڑ دی۔
صرف الله قلوبهم: اللہ نے ان کے دلوں کو ہدایت سے پھیر دیا۔
لا يفقهون: سمجھتے نہیں، سمجھ کی صلاحیت سے محروم۔
تفسیر:
جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے جس میں منافقوں کے حالات اور ان کے عیوب بیان ہوتے ہیں، تو وہ منافق لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں اور آنکھوں کے اشاروں سے باہم کہتے ہیں کہ یہ سورت تو ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ نزولِ وحی کا انکار کرتے ہیں، اس پر طنز کرتے ہیں اور اپنے غیظ و غضب کا اظہار کرتے ہیں۔ پھر وہ آپس میں مشورہ کرتے ہیں کہ اگر ہم یہاں سے اٹھ کر چلے جائیں تو کیا کوئی ہمیں دیکھے گا؟ اگر انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ کوئی انہیں نہیں دیکھ رہا، تو وہ مجلسِ نبوی سے چپکے سے نکل جاتے ہیں، اس خوف سے کہ کہیں ان کی حقیقت ظاہر نہ ہو جائے اور ان کی رسوائی نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ہدایت سے پھیر دیا اور انہیں توفیقِ ایمان سے محروم کر دیا، کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو غور و فکر نہیں کرتے، نہ قرآن کے معانی پر تدبر کرتے ہیں اور نہ ہی سمجھنا چاہتے ہیں۔ ان کی یہ حالت ان کے اپنے عناد اور ضد کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے حق کو سمجھ کر بھی قبول نہ کیا، اس لیے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ایمان کی دولت صرف انہیں ملتی ہے جو سچے دل سے حق کو قبول کرتے ہیں اور قرآن پر غور و فکر کرتے ہیں۔ منافقین کا انجام یہ ہے کہ وہ دنیا میں بھی ذلت و رسوائی سے نہیں بچ سکتے اور آخرت میں بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کو پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں، کیونکہ قرآن ہی وہ نور ہے جو ہمیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ جو شخص قرآن سے جڑ جائے، اللہ اس کے دل کو ہدایت سے منور کر دیتا ہے، اور جو قرآن سے منہ موڑے، اس کا دل اندھا ہو جاتا ہے۔ آئیے ہم منافقین کی روش سے بچیں اور سچے مومن بن کر اللہ کی رحمت کے مستحق بنیں۔
اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگتے ہیں (اور پوچھتے ہیں کہ) بھلا تمہیں کوئی دیکھتا ہے پھر پھر جاتے ہیں۔ خدا نے ان کے دلوں کو پھیر رکھا ہے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے
(لوگو) تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف ان کو گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے خواہش مند ہیں اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے (اور) مہربان ہیں
پھر اگر یہ لوگ پھر جائیں (اور نہ مانیں) تو کہہ دو کہ خدا مجھے کفایت کرتا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔