کہہ دو کہ تم (مال) خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا تم نافرمان لوگ ہو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
طَوْعًا: خوشی سے، اپنی مرضی سے۔
کَرْهًا: ناگواری سے، مجبوری کی حالت میں۔
لَنْ یُتَقَبَّلَ: ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
فَاسِقِینَ: نافرمان، دینِ حق سے خارج ہونے والے۔
تفسیر:
اے نبی! آپ ان منافقوں سے فرما دیجیے کہ تم اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرو، چاہے خوشی سے کرو یا ناگواری سے، تمہاری یہ نفقات ہرگز قبول نہ کی جائیں گی۔ اس لیے کہ تم ایسے لوگ ہو جو اللہ کے دین سے خارج ہو چکے ہو اور اس کی اطاعت سے نکل گئے ہو۔ تمہارے دل ایمان سے خالی ہیں، تمہارے اعمال ریا اور نفاق پر مبنی ہیں، اس لیے تمہارا خرچ اللہ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ صرف متقیوں کا عمل قبول فرماتا ہے، جن کے دل ایمان کی روشنی سے منور ہوں اور جن کے اعمال خلوص پر مبنی ہوں۔
یہ آیت منافقین کے اس رویے کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ ظاہری طور پر مسلمانوں کے ساتھ مل کر مال خرچ کرتے تھے، لیکن ان کے دل نفاق سے بھرے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں صاف صاف بتا دیا کہ تمہارا خرچ ضائع ہے، کیونکہ قبولیتِ عمل کا دارومدار ایمان اور خلوص پر ہے، نہ کہ صرف ظاہری فعل پر۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ کے ہاں اعمال کی قبولیت کا معیار صرف ظاہری فعل نہیں، بلکہ باطنی کیفیت ہے۔ اگر ہمارے دل ایمان سے خالی ہیں اور ہمارے اعمال ریا اور دکھاوے پر مبنی ہیں، تو ہماری کوئی بھی نیکی اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوگی۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اپنے دلوں کو اخلاص سے بھریں، اور ہر عمل کو صرف اللہ کی رضا کے لیے کریں۔ یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے، وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور انہیں بخش دیتا ہے۔ جو بھی اپنے نفاق اور برے اعمال سے توبہ کر کے اللہ کی طرف رجوع کرے گا، اللہ اسے معاف فرما دے گا اور اس کے اعمال کو قبول فرمائے گا۔ اللہ ہمیں اخلاص اور سچے ایمان کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
کہہ دو کہ تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظر ہو اور ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا (یا تو) اپنے پاس سے تم پر کوئی عذاب نازل کرے یا ہمارے ہاتھوں سے (عذاب دلوائے) تو تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں
اور ان کے خرچ (موال) کے قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوا اس کے انہوں نے خدا سے اور اس کے رسول سے کفر کیا اور نماز کو آتے ہیں تو سست کاہل ہوکر اور خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے
تم ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ خدا چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) وہ کافر ہی ہوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔