Wa minhumul lazeena yu`zoonan nabiyya wa yaqooloona huwa uzun; qul uzunu khairil lakum yu`minu billaahi wa yu`minu lilmu mi neena wa rahmatul lillazeena aamanoo minkum; wallazeena yu`zoona Rasoolal laahi lahum `azaabun aleem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ (وہ) کان (ہے تو) تمہاری بھلائی کے لیے۔ وہ خدا کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لیے رحمت ہے۔ اور جو لوگ رسول خدا کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لیے عذاب الیم (تیار) ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بعضى از ايشان پيامبر را مىآزارند و مىگويند كه او به سخن هر كس گوش مىدهد. بگو: او براى شما شنونده سخن خير است. به خدا ايمان دارد و مؤمنان را باور دارد، و رحمتى است براى آنهايى كه ايمان آوردهاند. و آنان كه رسول خدا را بيازارند به شكنجهاى دردآور گرفتار خواهند شد.
اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ (وہ) کان (ہے تو) تمہاری بھلائی کے لیے۔ وہ خدا کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لیے رحمت ہے۔ اور جو لوگ رسول خدا کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لیے عذاب الیم (تیار) ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أُذُنٌ: جو ہر بات سن لیتا ہے اور ہر ایک کی بات مان لیتا ہے۔
یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِینَ: مومنین کی تصدیق کرتا ہے اور ان کی باتوں کو سچ مانتا ہے۔
عَذَابٌ أَلِیمٌ: دردناک اور تکلیف دہ عذاب۔
تفسیرِ آیات:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ منافقین کے ایک اور قبیح رویے سے پردہ اٹھاتا ہے۔ یہ منافقین نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی باتوں سے ستاتے تھے اور آپ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرتے ہوئے کہتے تھے کہ "یہ تو بس کان ہیں، ہر ایک کی سن لیتے ہیں اور جو کوئی بھی ان سے کچھ کہہ دیتا ہے، اسے سچ مان لیتے ہیں۔" وہ آپ کے حلم اور بردباری کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے، تاکہ لوگوں کی نظر میں آپ کی عدالت اور فہم و فراست کو کم کریں۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کا ردّ خود اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کروایا اور فرمایا: "اے نبی! ان سے کہہ دو کہ اگر وہ کان ہیں تو یہ کان خیر کے ہیں، تمہارے لیے بھلائی کے ہیں۔" یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سننا اور ماننا کسی کی خوشامد یا جھوٹ کی بنیاد پر نہیں، بلکہ آپ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور مومنین کی سچی باتوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ آپ کا یہ رویہ رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں، کیونکہ آپ کی تعلیمات اور آپ کا حسنِ سلوک ہی ان کے لیے دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے سخت وعید سنائی: "جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دیتے ہیں، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔" یہ عذاب صرف دنیا میں ذلت اور رسوائی کی صورت میں نہیں، بلکہ آخرت میں جہنم کا عذاب بھی شامل ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور ادب ہر مومن کے ایمان کا حصہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہمارے لیے رحمت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔" ہمیں چاہیے کہ آپ کی سنت پر عمل کریں، آپ کے اخلاق کو اپنائیں، اور آپ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی یا بے ادبی سے بچیں۔ جو لوگ آپ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں، وہی کامیاب ہیں، اور جو آپ کی مخالفت کرتے ہیں، ان کا انجام دردناک ہے۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو آپ کی محبت سے بھریں اور اپنی زندگیوں کو آپ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق ڈھالیں، تاکہ ہم بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہوں جن کے لیے آپ رحمت بن کر آئے۔
اور اگر وہ اس پر خوش رہتے جو خدا اور اس کے رسول نے ان کو دیا تھا۔ اور کہتے کہ ہمیں خدا کافی ہے اور خدا اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر (اپنی مہربانی سے) ہمیں (پھر) دیں گے۔ اور ہمیں تو خدا ہی کی خواہش ہے (تو ان کے حق میں بہتر ہوتا)
صدقات (یعنی زکوٰة وخیرات) تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہے اور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قرضداروں (کے قرض ادا کرنے میں) اور خدا کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں (بھی یہ مال خرچ کرنا چاہیئے یہ حقوق) خدا کی طرف سے مقرر کر دیئے گئے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ (وہ) کان (ہے تو) تمہاری بھلائی کے لیے۔ وہ خدا کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لیے رحمت ہے۔ اور جو لوگ رسول خدا کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لیے عذاب الیم (تیار) ہے
مومنو! یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کر دیں۔ حالانکہ اگر یہ (دل سے) مومن ہوتے تو خدا اور اس کے پیغمبر خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہیں
کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم کی آگ (تیار) ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔