توبہ · 62/129
ترجمہ تلفظ — توبہ
يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَقُّ أَن يُرْضُوهُ إِن كَانُوا مُؤْمِنِينَ ۝٦٢
yahlifoona billaahi lakum liyurdookum wallaahu wa Rasooluhoo ahaqqu ai yurdoohu in kaanoo mu`mineen
📖 اردو ترجمہ
مومنو! یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کر دیں۔ حالانکہ اگر یہ (دل سے) مومن ہوتے تو خدا اور اس کے پیغمبر خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ: وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں۔
  • لِيُرْضُوكُمْ: تاکہ تمہیں راضی کر لیں۔
  • أَحَقُّ أَن يُرْضُوهُ: زیادہ حق دار ہیں کہ انہیں راضی کیا جائے۔

تفسیر:

یہ آیت ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی جو غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے اور جب مسلمان ان سے پوچھتے تھے تو وہ جھوٹی قسمیں کھا کر کہتے تھے کہ ہم نے کوئی بری بات نہیں کہی، ہم تو صرف تمہاری خوشی چاہتے ہیں۔ وہ اپنے جھوٹے عذر اور بہانے پیش کرتے تھے تاکہ مسلمانوں کو راضی کر لیں۔ مگر اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کا حال خوب جانتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے ایمان والو! یہ منافق تمہیں راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ اگر یہ سچے مومن ہیں تو انہیں اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ اور اس کا رسول اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ان کی رضا حاصل کی جائے، کیونکہ اصل کامیابی اور نجات اسی میں ہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اللہ اور اس کے رسول کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھے، نہ کہ لوگوں کی خوشنودی کو۔

نوٹ کریں کہ آیت میں "أَنْ يُرْضُوهُ" کا ضمیر واحد آیا ہے، حالانکہ اللہ اور رسول دونوں کا ذکر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا اللہ کی رضا کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ جو شخص اللہ کو راضی کرے گا، وہ رسول کو بھی راضی کرے گا، اور جو رسول کی نافرمانی کرے گا، وہ اللہ کی نافرمانی کرے گا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رسول کی اطاعت درحقیقت اللہ کی اطاعت ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں اللہ اور اس کے رسول کی رضا کو سب سے زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔ ہماری تمام کوششیں، اعمال اور قول و فعل کا مقصد اللہ کی خوشنودی ہونا چاہیے، نہ کہ لوگوں کی تعریف یا ان کی رضا۔ جب ہم اللہ کو راضی کر لیں گے تو اللہ خود لوگوں کے دلوں میں ہماری محبت ڈال دے گا۔ یاد رکھیں، لوگوں کی رضا حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بولنا اور قسمیں کھانا منافقوں کا طریقہ ہے، جبکہ مومن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ سچ بولے، نیک عمل کرے اور اللہ سے ڈرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچے مومن بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 60-64 — توبہ

60۞ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
صدقات (یعنی زکوٰة وخیرات) تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہے اور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قرضداروں (کے قرض ادا کرنے میں) اور خدا کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں (بھی یہ مال خرچ کرنا چاہیئے یہ حقوق) خدا کی طرف سے مقرر کر دیئے گئے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
61وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ ۚ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ ۚ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ (وہ) کان (ہے تو) تمہاری بھلائی کے لیے۔ وہ خدا کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لیے رحمت ہے۔ اور جو لوگ رسول خدا کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لیے عذاب الیم (تیار) ہے
62يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَقُّ أَن يُرْضُوهُ إِن كَانُوا مُؤْمِنِينَ
مومنو! یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کر دیں۔ حالانکہ اگر یہ (دل سے) مومن ہوتے تو خدا اور اس کے پیغمبر خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہیں
63أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَن يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيمُ
کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم کی آگ (تیار) ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے
64يَحْذَرُ الْمُنَافِقُونَ أَن تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُورَةٌ تُنَبِّئُهُم بِمَا فِي قُلُوبِهِمْ ۚ قُلِ اسْتَهْزِئُوا إِنَّ اللَّهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُونَ
منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ ان (کے پیغمبر) پر کہیں کوئی ایسی سورت (نہ) اُتر آئے کہ ان کے دل کی باتوں کو ان (مسلمانوں) پر ظاہر کر دے۔ کہہ دو کہ ہنسی کئے جاؤ۔ جس بات سے تم ڈرتے ہو خدا اس کو ضرور ظاہر کردے گا
توبہقرآن فہرست
129آیت
مدنیRevelation
62آیت

ترجمہ — توبہ 62

سورہ توبہ آیت 62 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مومنو! یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں…

سورہ آیت 62/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 60–64. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں