ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أُولُوا الطَّوْلِ: مال و دولت والے، خوش حال لوگ۔
- ذَرْنَا: ہمیں چھوڑ دو، ہمیں اجازت دو۔
- الْقَاعِدِينَ: بیٹھ رہنے والے، یعنی معذور اور کمزور لوگ جو جہاد میں شرکت نہیں کر سکتے۔
تفسیر آیت:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ منافقوں کے اس رویے کو بیان فرماتا ہے کہ جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے جس میں ایمان لانے اور اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ مل کر جہاد کرنے کا حکم دیا جاتا ہے، تو ان میں سے جو لوگ مال و دولت والے اور آسودہ حال ہوتے ہیں، وہ آپ ﷺ کے پاس آ کر اجازت مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دیجیے، ہم بیٹھ رہنے والوں (معذوروں اور کمزوروں) کے ساتھ رہیں گے۔
یہ منافقین حقیقت میں ایمان نہیں رکھتے تھے، اس لیے وہ جہاد جیسی عظیم عبادت سے جی چراتے تھے اور بہانے بنا کر پیچھے بیٹھ رہتے تھے۔ حالانکہ وہ مال و دولت رکھتے تھے، صحت مند تھے اور ان کے پاس جہاد پر جانے کے تمام وسائل موجود تھے، لیکن پھر بھی وہ اس فریضے سے بھاگتے تھے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور جہاد کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ جو لوگ وسائل رکھتے ہوئے بھی اللہ کے دین کی خدمت سے جی چراتے ہیں، وہ منافقوں کے مشابہ ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مال، وقت اور جان سے اللہ کی راہ میں حصہ ڈالیں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو مال و دولت اور طاقت دی ہے، وہ اسی لیے دی ہے کہ ہم اسے اس کی راہ میں خرچ کریں۔ جہاد صرف جنگ ہی نہیں، بلکہ اپنے نفس سے جہاد، علم کے ذریعے جہاد، مال کے ذریعے جہاد اور ہر وہ عمل جو اللہ کے دین کو سربلند کرے، جہاد ہے۔ آئیے ہم منافقوں کے راستے سے بچیں اور مخلص مومنین کی صف میں شامل ہوں، تاکہ اللہ کی رحمت اور مغفرت کے حقدار بن سکیں۔
📜 آیت 84-88 — توبہ
ترجمہ — توبہ 86
سورہ توبہ آیت 86 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ خدا پر…سورہ آیت 86/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 84–88. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں







