ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- طحاها: اسے پھیلایا، بچھایا، ہموار کیا۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے زمین کی قسم کھائی ہے اور اس کی بچھانے، پھیلانے اور ہموار کرنے کی صفت کو بیان فرمایا ہے۔ "طحاها" کا مطلب ہے کہ اللہ نے زمین کو اس طرح پھیلایا اور بچھایا کہ وہ انسانوں کے رہنے کے قابل بن گئی، اسے ہموار کیا تاکہ لوگ اس پر چل سکیں، آبادیاں بنا سکیں، کھیتیاں اگا سکیں اور اپنی معاشی اور سماجی ضروریات پوری کر سکیں۔
یہ قسم اس لیے کھائی گئی کہ زمین کی یہ وسعت اور ہمواری اللہ کی قدرت کی عظیم نشانی ہے۔ جس طرح سورج، چاند، رات اور دن اپنے نظام پر قائم ہیں، اسی طرح زمین بھی اپنی جگہ پر قائم ہے اور اللہ کے حکم سے پھیلی ہوئی ہے۔ اگر زمین ہموار اور بچھی ہوئی نہ ہوتی تو انسان اس پر زندگی گزارنے کے قابل نہ ہوتا۔
یہاں "ما" کا لفظ مصدریہ ہے، یعنی "طحاها" کا مصدر مراد ہے، جیسے "وما طحاها" یعنی "اور اس کی بچھانے والی ذات کی قسم" یا "اور اس کے بچھانے کی قسم"۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد زمین کو پھیلانا اور اسے رہنے کے قابل بنانا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو ہمارے لیے نہایت حکمت اور رحمت کے ساتھ بچھایا ہے۔ یہ اللہ کی نعمت ہے کہ ہم اس پر چلتے پھرتے ہیں، سوتے جاگتے ہیں، کھیتیاں اگاتے ہیں اور اپنی زندگی کے تمام کام انجام دیتے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ یہ زمین جو ہمارے قدموں تلے ہے، اگر اللہ اسے مضبوط اور ہموار نہ کرتا تو ہماری زندگی کیا ہوتی؟ یہ زمین ہمیں اللہ کی محبت اور اس کی عظمت کی یاد دلاتی ہے۔ جب ہم زمین پر چلتے ہیں تو ہمیں اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے ہمارے لیے اسے بچھایا اور اسے رہنے کے قابل بنایا۔ یہ نعمت ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرنے، اس کی عبادت کرنے اور اس کے احکام پر چلنے کی ترغیب دیتی ہے۔ زمین کی ہمواری اور وسعت اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور وہی ہمارا خالق، مالک اور رازق ہے۔
📜 آیت 4-8 — شمس
ترجمہ — شمس 6
سورہ آیت 6/15 — شمس الشمس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شمس سنیں, شمس ترجمہ, شمس mp3, شمس pdf. آیت 4–8. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








