ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اسے علم کی دولت سے نوازا، اور علم حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ قلم اور کتابت ہے۔ اس آیت میں اللہ رب العزت اپنی عظیم نعمت کا ذکر فرما رہا ہے۔
معانی الفاظ:
- عَلَّمَ: سکھایا، تعلیم دیا
- بِالْقَلَمِ: قلم کے ذریعے، یعنی لکھنے کا فن
تفسیر:
اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے انسان کو قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ اس نے انسان کو لکھنے کا فن عطا کیا، جس کے ذریعے علم محفوظ رہتا ہے، ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا ہے، اور انسان جہالت کی تاریکیوں سے نکل کر علم کی روشنی میں آتا ہے۔ یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ اس نے انسان کو قلم کے استعمال کی توفیق دی، کیونکہ قلم ہی وہ ذریعہ ہے جس سے علوم و معارف کو تحریر کیا جاتا ہے، کتابیں لکھی جاتی ہیں، اور انسانی تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی عظیم نعمت کی یاد دلا رہا ہے تاکہ ہم اس کا شکر ادا کریں اور علم حاصل کرنے میں محنت کریں۔ قلم اور کتابت کے ذریعے ہی قرآن مجید محفوظ ہوا، حدیث نبوی ﷺ لکھی گئیں، اور اسلامی علوم کی بیش بہا کتابیں وجود میں آئیں۔ آج بھی جو شخص علم حاصل کرتا ہے اور اسے پھیلاتا ہے، وہ اس آیت کی تعلیم پر عمل کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم علم کے حصول میں کوشاں رہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قلم کو اتنی اہمیت دی ہے کہ قرآن کی پہلی وحی میں ہی اس کا ذکر فرمایا۔ یہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ ہمارا دین علم اور قلم کو اتنی بلندی عطا کرتا ہے، اور ہمیں چاہیے کہ ہم اس نعمت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی زندگیوں کو روشن کریں اور دوسروں تک علم کا پیغام پہنچائیں۔
📜 آیت 2-6 — علق
ترجمہ — علق 4
سورہ علق آیت 4 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایاسورہ آیت 4/19 — علق العلق (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: علق سنیں, علق ترجمہ, علق mp3, علق pdf. آیت 2–6. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








