ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مَتَىٰ: کب، کس وقت
- هَٰذَا الْوَعْدُ: یہ وعدہ (یعنی قیامت اور عذاب کا وعدہ)
- صَادِقِينَ: سچے، راست باز
تفسیر:
اے نبی کریم ﷺ! آپ کی قوم کے مشرکین آپ سے اور آپ پر ایمان لانے والوں سے مذاق اور استہزاء کے انداز میں کہتے ہیں: "یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟ اگر تم سچے ہو تو بتاؤ کہ وہ وقت کب آئے گا جس کا تم ہمیں خوف دلاتے ہو؟"
یہ کفار اپنی سرکشی اور ضد کی وجہ سے قیامت اور عذابِ الٰہی کے وعدے کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اسے محض ایک خیالی بات سمجھتے ہیں۔ وہ نہ صرف اس وعدے کو جھٹلاتے ہیں بلکہ طنزاً اس کے آنے کا وقت بھی پوچھتے ہیں تاکہ مسلمانوں کو شرمندہ کریں اور ان کے ایمان کو کمزور کریں۔
حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، اور اس کا آنا یقینی ہے، خواہ وہ کبھی بھی آئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو جو وعدہ دیا ہے وہ ضرور پورا ہوگا، چاہے کافر اس کا مذاق اڑائیں یا اسے جھٹلائیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ کفار کا یہ سوال دراصل ان کی ہٹ دھرمی اور حق سے بھاگنے کی علامت ہے۔ وہ حقیقت کو ماننے کے بجائے بہانے تلاش کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے وعدوں پر پختہ یقین رکھیں اور اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔ قیامت کا آنا یقینی ہے، اور ہر شخص اپنے اعمال کا حساب دے گا۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں، تاکہ اس دن ہم کامیاب ہوں۔ یاد رکھیں، اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور اس کی کوئی بات جھوٹی نہیں ہو سکتی۔
📜 آیت 46-50 — یونس
ترجمہ — یونس 48
سورہ یونس آیت 48 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو…سورہ آیت 48/109 — یونس يونس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یونس سنیں, یونس ترجمہ, یونس mp3, یونس pdf. آیت 46–50. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








