یونس · 88/109
ترجمہ تلفظ — یونس
وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ ۝٨٨
Wa qaala Mosaa Rabbanaaa innaka aataita Fir`awna wa mala ahoo zeenatanw wa amwaalan fil hayaatid dunyaa Rabbanaa liyudillo `ansabeelika Rabbanat mis `alaaa amwaalihim washdud `alaa quloobihim falaa yu`minoo hatta yarawul `azaabal aleem
📖 اردو ترجمہ
اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں (بہت سا) سازو برگ اور مال وزر دے رکھا ہے۔ اے پروردگار ان کا مال یہ ہے کہ تیرے رستے سے گمراہ کردیں۔ اے پروردگار ان کے مال کو برباد کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • زینة: وہ آرائش و زیبائش اور دنیوی رونق جو ظاہری طور پر دلکش ہو۔
  • اطمس: مٹا دے، برباد کر دے، یعنی ان کے اموال کی برکت اور نفع ختم کر دے۔
  • اشدد: سخت کر دے، بند کر دے، یعنی ان کے دلوں پر مہر لگا دے۔

تفسیر آیت:

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب دیکھا کہ فرعون اور اس کے سردار اپنی دولت اور زینت کے بل بوتے پر لوگوں کو راہِ حق سے بھٹکانے میں لگے ہوئے ہیں، اور ان کی سرکشی حد سے بڑھ چکی ہے، تو انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں دستِ دعا اٹھایا۔ انہوں نے عرض کیا: "اے ہمارے رب! تو نے فرعون اور اس کے اشرافِ قوم کو دنیا کی زندگی میں بڑی زینت اور بے شمار اموال عطا فرمائے ہیں۔ یہ نعمتیں ان کے لیے آزمائش کا ذریعہ بن گئیں، اور انہوں نے تیرے احسانات کا شکر ادا کرنے کے بجائے انہیں تیری راہ سے بھٹکانے کے لیے استعمال کیا۔"

پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی: "اے ہمارے رب! ان کے اموال کو برباد کر دے، ان کی برکت اور نفع کو ختم کر دے تاکہ وہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ اور ان کے دلوں کو سخت کر دے، ان پر مہر لگا دے تاکہ ایمان ان کے دلوں میں داخل نہ ہو سکے، یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔"

یہ دعا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت کی جب انہیں یقین ہو گیا تھا کہ فرعون اور اس کی قوم ایمان لانے والی نہیں، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی ہلاکت کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اس لیے انہوں نے ان کے خلاف بددعا کی، تاکہ اللہ کا عذاب ان پر نازل ہو اور وہ اس وقت ایمان لائیں جب ایمان کا کوئی فائدہ نہ ہو۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ اولاً، یہ کہ دنیا کی زینت اور دولت انسان کو اللہ کی راہ سے بھٹکانے کا ذریعہ بن سکتی ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اموال اور وسائل کو اللہ کی اطاعت اور اس کی راہ میں خرچ کریں، نہ کہ معصیت اور سرکشی میں۔ ثانیاً، یہ کہ دعا بہت بڑی طاقت ہے، انبیاء علیہم السلام بھی اپنی امتوں کے لیے دعا کرتے تھے، اور ہمیں بھی اپنے معاملات میں اللہ سے دعا مانگنی چاہیے۔ ثالثاً، یہ کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت ضرور دیتا ہے، لیکن جب وہ حد سے بڑھ جاتے ہیں تو ان کی پکڑ بہت سخت ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم فرعون جیسی سرکشی سے بچیں اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں، کیونکہ شکر نعمت کو بڑھاتا ہے اور ناشکری عذاب کو دعوت دیتی ہے۔ اللہ ہمیں اپنی راہ پر چلنے کی توفیق دے اور دنیا کی زینت کے فتنے سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 86-90 — یونس

86وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
اور اپنی رحمت سے قوم کفار سے نجات بخش
87وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ وَأَخِيهِ أَن تَبَوَّءَا لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوتًا وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ
اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لیے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھہراؤ اور نماز پڑھو۔ اور مومنوں کو خوشخبری سنادو
88وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ
اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں (بہت سا) سازو برگ اور مال وزر دے رکھا ہے۔ اے پروردگار ان کا مال یہ ہے کہ تیرے رستے سے گمراہ کردیں۔ اے پروردگار ان کے مال کو برباد کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں
89قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
خدا نے فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت قدم رہنا اور بےعقلوں کے رستے نہ چلنا
90۞ وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا ۖ حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور تعدی سے ان کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب) نے آپکڑا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ جس (خدا) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں
یونسقرآن فہرست
109آیت
مکیRevelation
88آیت

ترجمہ — یونس 88

سورہ یونس آیت 88 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون…

سورہ آیت 88/109 — یونس يونس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یونس سنیں, یونس ترجمہ, یونس mp3, یونس pdf. آیت 86–90. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں