خدا نے فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت قدم رہنا اور بےعقلوں کے رستے نہ چلنا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
دَعْوَتُكُمَا: تم دونوں کی دعا (موسیٰ علیہ السلام کی دعا اور ہارون علیہ السلام کا آمین کہنا)۔
فَاسْتَقِيمَا: تم دونوں ثابت قدم رہو اور اپنے راستے پر جمے رہو۔
لَا تَتَّبِعَانِّ: تم دونوں ہرگز پیروی نہ کرو۔
سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ: ان لوگوں کا راستہ جو اللہ کے وعدے اور اس کی قدرت سے بے خبر ہیں۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے سرداروں کے خلاف بددعا کی تو حضرت ہارون علیہ السلام نے اس پر آمین کہا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم دونوں کی دعا قبول کر لی گئی ہے۔ یہ اللہ کی رحمت اور قدرت کا کمال ہے کہ وہ اپنے بندوں کی پکار سنتا ہے اور ان کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دونوں بھائیوں کو دو اہم ہدایات دیں:
استقامت: تم دونوں اپنے دین پر ثابت قدم رہو، اپنی دعوت پر جمے رہو، اور اللہ کے حکم کی تعمیل میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرو۔
اجتناب: تم دونوں ان لوگوں کے راستے پر نہ چلنا جو اللہ کے علم، اس کے وعدے اور اس کی قدرت سے ناواقف ہیں، کیونکہ وہ لوگ حق کو نہیں پہچانتے اور اپنی جہالت کی وجہ سے گمراہی میں مبتلا ہیں۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دعا کرتے وقت ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ سنتا ہے اور قبول کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی ہمیں صبر اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے، لیکن اس کی حکمت کے مطابق وقت آنے پر وہ پورا ہوتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں تو ہمیں اپنے عمل میں بھی استقامت دکھانی چاہیے۔ دعا صرف زبان کا ذکر نہیں، بلکہ دل کا یقین اور عمل کی پختگی بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی مشکل حالات میں کیوں نہ ہوں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان پر قائم رہیں، اللہ کے وعدوں پر بھروسہ رکھیں، اور ان لوگوں کے راستے سے بچیں جو اللہ کے علم سے محروم ہیں اور اپنی عقل کے اندھیرے میں بھٹک رہے ہیں۔ اللہ کی مدد ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، اور اس کی فتح کا وعدہ سچا ہے۔
اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لیے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھہراؤ اور نماز پڑھو۔ اور مومنوں کو خوشخبری سنادو
اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں (بہت سا) سازو برگ اور مال وزر دے رکھا ہے۔ اے پروردگار ان کا مال یہ ہے کہ تیرے رستے سے گمراہ کردیں۔ اے پروردگار ان کے مال کو برباد کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور تعدی سے ان کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب) نے آپکڑا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ جس (خدا) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔