ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- رِجَالًا: مرد (انسان)، فرشتے نہیں۔
- نُوحِي إِلَيْهِم: ہم ان کی طرف وحی بھیجتے ہیں۔
- مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ: بستیوں کے رہنے والے، شہری لوگ۔
- عَاقِبَةُ: انجام، نتیجہ۔
- وَلَدَارُ الْآخِرَةِ: آخرت کا گھر (یعنی جنت)۔
- تَعْقِلُونَ: سمجھتے ہو، عقل سے کام لیتے ہو۔
تفسیر:
اے نبیِ مکرم! آپ یہ نہ سمجھیں کہ آپ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو یا غیر بشری مخلوق کو رسول بنا کر بھیجا تھا۔ ہر دور میں اللہ نے اپنی ہدایت کے لیے انسانوں ہی کو چنا اور انہیں وحی کا شرف عطا کیا۔ یہ تمام رسول بستیوں کے رہنے والے تھے، صحراؤں اور جنگلوں کے بدو نہیں، کیونکہ شہری ماحول میں رہ کر وہ تہذیب، علم اور معاشرتی زندگی کی پیچیدگیوں کو بہتر سمجھ سکتے تھے اور لوگوں کو دعوتِ حق زیادہ مؤثر طریقے سے دے سکتے تھے۔
پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے کہتا ہے جو آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں: کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں؟ کیا انہوں نے ان قوموں کے انجام پر غور نہیں کیا جو ان سے پہلے گزریں؟ عاد، ثمود، قومِ لوط اور فرعون جیسی طاقتور قومیں اپنے پیغمبروں کو جھٹلانے کے بعد کیسی تباہی کا شکار ہوئیں؟ ان کے محل کھنڈر بن گئے، ان کی سلطنتیں مٹ گئیں اور ان کی نسلیں نیست و نابود ہو گئیں۔ یہ نشانیاں آج بھی موجود ہیں، کاش وہ ان سے عبرت حاصل کرتے!
پھر اللہ تعالیٰ ایک اہم حقیقت بیان فرماتا ہے: آخرت کا گھر، یعنی جنت کی نعمتیں اور وہ ابدی زندگی، ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کریں، اللہ سے ڈریں اور اس کے احکام پر عمل کریں۔ دنیا کی دولت، عیش و آرام اور شہرت سب کچھ عارضی ہے، لیکن آخرت کی کامیابی ہمیشہ رہنے والی ہے۔ جو لوگ دنیا کی خاطر آخرت کو بھول جاتے ہیں، وہ حقیقت میں سب سے بڑا نقصان اٹھاتے ہیں۔
آخر میں اللہ تعالیٰ انہیں نصیحت کرتا ہے: کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ کیا تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جو شخص اپنے خالق کو پہچان لے، اس کی عبادت کرے اور اس کے رسولوں کی اتباع کرے، وہی کامیاب ہے؟ عقل سلیم تو یہی کہتی ہے کہ انسان کو اپنے انجام کے بارے میں سوچنا چاہیے اور اس راستے پر چلنا چاہیے جو اسے اللہ کی رضا تک پہنچائے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ نے ہمیشہ انسانوں ہی کو ہدایت کا ذریعہ بنایا، تاکہ ہم ان سے سیکھ سکیں اور ان کی زندگیوں سے رہنمائی حاصل کریں۔ آج بھی قرآن اور سنت ہمارے لیے روشنی کا ذریعہ ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم زمین میں اللہ کی نشانیوں پر غور کریں، پچھلی قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کریں اور اپنی آخرت کو سنواریں۔ یاد رکھیں! دنیا کی کوئی چیز آخرت کی کامیابی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اللہ نے ہمیں عقل دی ہے تاکہ ہم صحیح راستہ پہچانیں اور اس پر چلیں۔ آئیے ہم اپنی عقل کو استعمال کریں، قرآن کی تعلیمات پر عمل کریں اور اپنے رب کی رضا حاصل کریں۔ یہی ہماری کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔
📜 آیت 107-111 — یوسف
ترجمہ — یوسف 109
سورہ یوسف آیت 109 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں…سورہ آیت 109/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 107–111. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








