ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- اسْتَيْأَسَ: مایوس ہو گئے، امید چھوڑ دی۔
- ظَنُّوا: یقین کر لیا (یہاں ظن بمعنی یقین ہے)۔
- کُذِبُوا: جھٹلائے گئے (یعنی ان سے جھوٹا وعدہ کیا گیا)۔
- بَأْسُنَا: ہمارا عذاب، ہماری گرفت۔
- مُجْرِمِین: مجرم لوگ، جو اللہ کے ساتھ شرک اور کفر کرنے والے ہیں۔
تفسیر:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت مبارکہ ہمیں ایک انتہائی اہم حقیقت سے آگاہ کرتی ہے اور ساتھ ہی ہمارے دلوں میں صبر اور یقین کا بیج بھی بونے کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے اور تمام مومنین کو سبق سکھاتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے نبی! تم اپنی قوم کی طرف سے جو تکلیفیں اور جھٹلائے جانے کا سامنا کر رہے ہو، اس پر صبر کرو اور نصرت الٰہی کے لیے جلدی نہ کرو۔ اللہ کا قانون یہ رہا ہے کہ وہ اپنے رسولوں کی مدد اس وقت تک نہیں بھیجتا جب تک حالات انتہائی نازک اور مشکل نہ ہو جائیں۔
یہاں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ پچھلے انبیاء کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔ وہ اپنی قوموں کو دعوت دیتے رہے، لیکن قومیں انہیں جھٹلاتی رہیں۔ یہاں تک کہ جب رسولوں کو اپنی قوم کی طرف سے مایوسی ہونے لگی اور انہوں نے یقین کر لیا کہ ان کی قوم نے انہیں جھٹلا دیا ہے اور اب ان کے ایمان لانے کی کوئی امید نہیں رہی، اور کافروں نے بھی یہ سمجھ لیا کہ رسولوں نے جو عذاب کی دھمکی دی تھی وہ جھوٹی تھی (کیونکہ عذاب آنے میں دیر ہو رہی تھی)، تو بالکل اسی وقت اللہ کی مدد آتی ہے۔ یہ اللہ کا حکمت بھرا نظام ہے کہ نصرت اس وقت آتی ہے جب بندہ اپنی انتہائی حد تک مایوس ہو چکا ہوتا ہے، تاکہ امتحان مکمل ہو اور صبر کا اجر پورا ہو۔
اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور ان کے ساتھیوں کو نجات دیتا ہے، اور جو لوگ مجرم ہیں، جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ کی نافرمانی پر اڑے رہے، ان پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ اور جب اللہ کا عذاب آ جاتا ہے تو اسے کوئی ٹال نہیں سکتا، نہ کوئی اسے واپس کر سکتا ہے۔
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں میں صبر اور استقامت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ چاہے حالات کتنے ہی مشکل ہوں، اللہ کی مدد ضرور آتی ہے، لیکن اس کا وقت اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے ایمان پر مضبوط رہنا چاہیے اور اللہ کے وعدوں پر یقین رکھنا چاہیے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور وہ اپنے نیک بندوں کی مدد ضرور کرتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے گناہوں سے باز آنا چاہیے اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ کا عذاب بھی بہت سخت ہے اور اس کی پکڑ سے کوئی نہیں بچ سکتا۔
آئیے ہم سب اس آیت سے سبق حاصل کریں کہ اپنے دین پر قائم رہیں، صبر کریں، اور اللہ سے امید رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صابرین میں شامل فرمائے اور ہمیں اپنی رحمت اور نصرت سے نوازے۔ آمین۔
📜 آیت 108-111 — یوسف
ترجمہ — یوسف 110
سورہ یوسف آیت 110 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے…سورہ آیت 110/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 108–111. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








