Wa jaaa`at saiyaaratun fa-arsaloo waaridahum fa adlaa dalwah; qaala yaa bushraa haaza ghulaam; wa asarroohu bi-daa`ah; wallaahu `aleemum bimaa ya`maloon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب) ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لیے) اپنا سقا بھیجا۔ اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
كاروانى آمد. آبآورشان را فرستادند. دلو فرو كرد. گفت: مژدگانى، اين پسرى است. او را چون متاعى پنهان ساختند و خدا به كارى كه مىكردند آگاه بود.
سَیَّارَةٌ: مسافروں کا قافلہ جو راہ چلتے ہوئے گزرا۔
وَارِدَهُمْ: ان کا پانی لانے والا، جو پانی کی تلاش میں کنویں پر جاتا ہے۔
فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُ: اس نے اپنا ڈول (بالٹی) کنویں میں ڈالا۔
یَا بُشْرَىٰ: اے میری خوشخبری! (خوشی کا اظہار)۔
أَسَرُّوهُ بِضَاعَةً: انہوں نے یوسف کو چھپا کر (دوسروں سے) کہا کہ یہ تجارتی مال ہے۔
تفسیر:
جب یوسف علیہ السلام کنویں میں پھنسے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم دیکھیے کہ اسی وقت ایک قافلہ وہاں سے گزرا۔ انہوں نے پانی لانے کے لیے ایک شخص کو کنویں کی طرف بھیجا۔ اس نے اپنا ڈول کنویں میں ڈالا تو یوسف علیہ السلام اس ڈول سے لپٹ گئے۔ جب اس نے ڈول کھینچا تو ایک خوبصورت بچہ باہر نکلا۔ وہ خوشی سے چیخ اٹھا: "واہ! کیا خوشخبری ہے، یہ تو ایک لڑکا ہے!" اس نے اور اس کے ساتھیوں نے یوسف کو باقی قافلے والوں سے چھپا لیا، اور آپس میں کہا کہ یہ ہماری تجارتی بضاعت ہے، تاکہ اسے بیچ کر فائدہ حاصل کریں۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ہر عمل سے باخبر ہے، اور یوسف کے معاملے میں جو وہ سازش کر رہے ہیں، اللہ اسے اپنے علم میں رکھتا ہے اور یوسف کے لیے بہتر انجام کا انتظام کر رہا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس واقعے میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں نے کنویں میں ڈالا، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں وہاں سے نکال کر عزت دی۔ یہ اللہ کی قدرت ہے کہ وہ مصیبت کو راحت میں بدل دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر مشکل میں اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ اللہ ہر حال میں ہمارے ساتھ ہے اور ہمارے لیے بہترین راستہ نکالتا ہے۔ یوسف علیہ السلام کی طرح ہمیں بھی صبر اور توکل کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ ہمیشہ بھلائی کا معاملہ فرماتا ہے۔
(اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب) ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لیے) اپنا سقا بھیجا۔ اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا
(اور) کہنے لگے کہ اباجان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے
اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ حقیقت حال یوں نہیں ہے) بلکہ تم اپنے دل سے (یہ) بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے
(اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب) ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لیے) اپنا سقا بھیجا۔ اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا
اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہا کہ اس کو عزت واکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔