یوسف · 18/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
وَجَاءُوا عَلَىٰ قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ ۚ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ۝١٨
Wa jaaa`oo `alaa qamee shihee bidamin kazi` qaala bal sawwalat lakum anfusukum amraa; fasabrun jameel; wallaahul musta`aanu `alaa man tasifoon
📖 اردو ترجمہ
اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ حقیقت حال یوں نہیں ہے) بلکہ تم اپنے دل سے (یہ) بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • قمیص: کرتا، قمیض۔
  • بِدَمٍ کَذِبٍ: جھوٹا خون، یعنی وہ خون جو یوسف علیہ السلام کا نہیں تھا بلکہ کسی اور جانور کا تھا۔
  • سَوَّلَتْ: زینت دی، بھلا کر دکھایا۔
  • صَبْرٌ جَمِیلٌ: وہ صبر جس میں کوئی شکایت نہ ہو، نہ اللہ سے اور نہ مخلوق سے۔
  • الْمُسْتَعَانُ: مدد مانگنے والا، جس سے مدد طلب کی جائے۔

تفسیر:

جب یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے انہیں کنویں میں ڈال دیا، تو وہ رات کو باپ کے پاس روتے ہوئے آئے اور یہ ڈرامہ رچایا کہ بھیڑیے نے یوسف کو کھا لیا۔ انہوں نے اپنے دعوے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے یوسف کے کرتے پر کسی اور کا خون لگا کر پیش کیا، تاکہ باپ کو یقین آ جائے کہ واقعی بھیڑیے نے حملہ کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یعقوب علیہ السلام کو بصیرت عطا فرمائی تھی۔ انہوں نے غور کیا تو دیکھا کہ کرتے پر خون لگا ہے مگر کرتا سالم ہے، اس میں کوئی چیر پھاڑ نہیں۔ اگر واقعی بھیڑیے نے حملہ کیا ہوتا تو کرتے کے پھٹے ہونے کے آثار ہوتے۔ یہی وہ قرینہ تھا جس سے یعقوب علیہ السلام نے سمجھ لیا کہ یہ سب جھوٹ ہے۔

چنانچہ انہوں نے اپنے بیٹوں سے فرمایا: "معاملہ تمہارے کہنے کے مطابق نہیں ہے، بلکہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے ایک بری بات کو مزین کر کے پیش کیا اور تم نے اسے اچھا سمجھ کر انجام دیا۔" اس موقع پر یعقوب علیہ السلام نے بہترین رویہ اپنایا۔ انہوں نے نہ تو چیخ و پکار کی، نہ کسی سے شکایت کی، بلکہ صبر جمیل کا اعلان کیا۔ صبر جمیل وہ صبر ہے جس میں نہ کوئی شکایت ہو، نہ بے صبری، نہ اللہ کی تقدیر پر اعتراض۔ انہوں نے کہا: "میرا کام صبر ہی ہے، اور میں اس جھوٹ اور تکلیف پر اللہ ہی سے مدد مانگوں گا، نہ کہ اپنی طاقت یا کسی مخلوق سے۔"

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مصیبت کے وقت مومن کا طرز عمل کیا ہونا چاہیے۔ جب کوئی مشکل آئے تو اللہ پر بھروسہ رکھیں، صبر کریں، اور اللہ سے مدد طلب کریں۔ یعقوب علیہ السلام کا یہ عمل ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے کہ جب کوئی ناانصافی ہو یا کوئی تلخ حقیقت سامنے آئے تو ہمیں اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہیے اور اللہ کی رحمت سے امید نہیں کھونی چاہیے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جھوٹ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، چاہے اسے کتنی ہی چالاکی سے پیش کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ سچے بندوں کی حفاظت کرتا ہے اور جھوٹے لوگوں کا پردہ خود ہی پھاڑ دیتا ہے۔ ساتھ ہی، یہ ہمیں صبر کی عظمت سکھاتی ہے۔ جب انسان صبر کرتا ہے تو اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ یعقوب علیہ السلام نے صبر کیا اور اللہ نے انہیں یوسف سے ملایا۔ آج ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں صبر کو اپنانا چاہیے، کیونکہ صبر ہی وہ کلید ہے جو مشکل سے مشکل گھڑی میں بھی کامیابی کے دروازے کھول دیتی ہے۔ اللہ ہمیں صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 16-20 — یوسف

16وَجَاءُوا أَبَاهُمْ عِشَاءً يَبْكُونَ
(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے
17قَالُوا يَا أَبَانَا إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَاعِنَا فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ ۖ وَمَا أَنتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَادِقِينَ
(اور) کہنے لگے کہ اباجان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے
18وَجَاءُوا عَلَىٰ قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ ۚ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ
اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ حقیقت حال یوں نہیں ہے) بلکہ تم اپنے دل سے (یہ) بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے
19وَجَاءَتْ سَيَّارَةٌ فَأَرْسَلُوا وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُ ۖ قَالَ يَا بُشْرَىٰ هَٰذَا غُلَامٌ ۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَاعَةً ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَعْمَلُونَ
(اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب) ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لیے) اپنا سقا بھیجا۔ اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا
20وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ وَكَانُوا فِيهِ مِنَ الزَّاهِدِينَ
اور اس کو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدودے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انہیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ نہ تھا
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
18آیت

ترجمہ — یوسف 18

سورہ یوسف آیت 18 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی…

سورہ آیت 18/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 16–20. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں