Wa qaalal lazish taraahu mim Misra limra atiheee akrimee maswaahu `asaaa any-yanfa`anaaa aw nattakhizahoo waladaa; wa kazaalika mak-kannaa li-Yoosufa fil ardi wa linu`allimahoo min taaweelil ahaadees; wallaahu ghaalibun `alaaa amrihee wa laakinna aksaran naasi laa ya`lamoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہا کہ اس کو عزت واکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
كسى از مردم مصر كه او را خريده بود به زنش گفت: تا در اينجاست گراميش بدار، شايد به ما سودى برساند، يا او را به فرزندى بپذيريم. و بدين سان يوسف را در زمين مكانت داديم تا به او تعبير خواب آموزيم. و خدا بر كار خويش غالب است، ولى بيشتر مردم نمىدانند.
تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ: خوابوں کی تعبیر (یہاں مراد خوابوں کے انجام اور معانی تک پہنچنا ہے)۔
غَالِبٌ عَلَىٰ أَمْرِهِ: اپنے معاملے پر غالب، یعنی اللہ کا حکم نافذ ہو کر رہتا ہے۔
تفسیر:
جب قافلہ والے یوسف علیہ السلام کو لے کر مصر پہنچے تو وہاں کے عزیزِ مصر (جو بادشاہ کے خزانوں کا افسر تھا) نے انہیں خرید لیا۔ اس نے اپنی بیوی (زلیخا) سے کہا: ”ان کی عزت و تکریم کرنا، ان کے قیام کو اچھا بنانا، شاید وہ ہمیں کوئی فائدہ پہنچائیں یا ہم انہیں اپنا بیٹا بنا لیں۔“ یہ اس لیے کہ عزیز مصر کو اولاد نہیں تھی اور وہ یوسف علیہ السلام کی صورت اور سیرت میں بھلائی کے آثار دیکھ رہا تھا۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جس طرح ہم نے یوسف کو قتل سے بچایا، کنویں سے نکالا اور عزیز کے دل میں ان کی محبت ڈالی، اسی طرح ہم نے انہیں مصر کی سرزمین میں اقتدار بخشا، تاکہ انہیں خوابوں کی تعبیر کا علم سکھائیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور اس کی تدبیر سے ہوا۔ اللہ اپنے معاملے پر غالب ہے، اس کا فیصلہ کبھی ناکام نہیں ہوتا، لیکن اکثر لوگ (یعنی کافر اور غافل) یہ نہیں جانتے کہ سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
دعوتی انداز:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کی مدد کرنا چاہتا ہے تو اسے ایسے راستوں سے کامیابی دیتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈالا گیا، غلام بنا کر بیچا گیا، لیکن اللہ نے انہیں عزت و اقتدار کی بلندیوں تک پہنچایا۔ اسی طرح ہر مسلمان کو چاہیے کہ مصیبتوں میں صبر کرے اور اللہ پر بھروسہ رکھے، کیونکہ اللہ اپنے مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جو شخص اللہ پر یقین رکھتا ہے، اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر حال میں اللہ کا حکم غالب ہے، اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ آئیے ہم سب اپنے معاملات میں اللہ کی مرضی پر راضی رہیں اور اس کی رحمت سے امید رکھیں، کیونکہ وہی ہمارا کارساز اور مددگار ہے۔
اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہا کہ اس کو عزت واکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
(اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب) ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لیے) اپنا سقا بھیجا۔ اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا
اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہا کہ اس کو عزت واکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یوسف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے (وہ یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بےشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔