یوسف · 33/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ ۖ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ الْجَاهِلِينَ ۝٣٣
Qaala rabbis sijnu ahabbu ilaiya mimma yad`oo naneee `ilaihi wa illaa tasrif `annee kaidahunna asbu ilaihinna wa akum minal jaahileen
📖 اردو ترجمہ
یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • السِّجْنُ: قید، جیل خانہ، محبس۔
  • أَحَبُّ إِلَيَّ: میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ۔
  • يَدْعُونَنِي: مجھے بلاتی ہیں، مجھے دعوت دیتی ہیں۔
  • تَصْرِفْ: پھیر دے، دور کر دے۔
  • كَيْدَهُنَّ: ان کا مکر اور فریب۔
  • أَصْبُ: مائل ہو جاؤں، جھک جاؤں۔
  • الْجَاهِلِينَ: جاہل لوگ، وہ لوگ جو اللہ کے حکموں کا لحاظ نہیں کرتے۔

تفسیر:

حضرت یوسف علیہ السلام نے جب دیکھا کہ عزیزِ مصر کی بیوی اور دوسری عورتیں انہیں برائی کی طرف بلانے پر اصرار کر رہی ہیں، اور انہوں نے انہیں ڈرایا بھی کہ اگر تم نے ان کی بات نہ مانی تو تمہیں قید میں ڈال دیا جائے گا، تو اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا کی: "اے میرے رب! قید خانہ مجھے اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں۔"

یہ فرما کر انہوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ گناہ اور معصیت سے اس قدر بیزار ہیں کہ وہ قید و بند کی سختیاں برداشت کرنا پسند کریں گے، لیکن اللہ کی نافرمانی اور حرام کام کا ارتکاب ہرگز گوارا نہیں کریں گے۔ یہ ایک مومن کا وہ مقامِ عالی ہے جہاں وہ دنیا کی آسائشوں اور راحتوں کو چھوڑ کر اللہ کی رضا کو ترجیح دیتا ہے۔

پھر انہوں نے اپنے رب سے التجا کی: "اور اگر تو نے مجھ سے ان عورتوں کے مکر و فریب کو نہ ٹالا، تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور جاہلوں میں شامل ہو جاؤں گا۔" اس دعا میں حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوری اور بے بسی کا اعتراف کیا، اور یہ تسلیم کیا کہ انسان کی اپنی طاقت کچھ نہیں، اللہ ہی کی توفیق اور حفاظت سے ہی انسان گناہوں سے بچ سکتا ہے۔ یہ عین وہی تعلیم ہے جو ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں ہمیشہ اللہ سے مدد مانگنی چاہیے، کیونکہ وہی ہمیں گناہوں سے بچانے والا ہے۔

یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ جب بھی ہم کسی گناہ کے قریب ہوں، تو ہمیں فوراً اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اپنی کمزوری کا اعتراف کرنا چاہیے، اور اللہ سے حفاظت کی دعا مانگنی چاہیے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا یہ طرزِ عمل ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے کہ ہم اپنے نفس پر بھروسہ نہ کریں، بلکہ اللہ کی توفیق کو اپنا سہارا بنائیں۔

اس آیت سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ اللہ کی راہ میں تکلیف برداشت کرنا، گناہ میں مبتلا ہونے سے بہتر ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے قید کی تاریکی کو عیش و آرام کی زندگی پر ترجیح دی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اللہ کی نافرمانی سے بڑھ کر کوئی ذلت نہیں، اور اللہ کی اطاعت سے بڑھ کر کوئی عزت نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کی اس دعا کو قبول فرمایا، انہیں عورتوں کے مکر سے بچایا، اور آخر کار انہیں عزت و سربلندی عطا فرمائی۔ یہ ہمارے لیے بھی بشارت ہے کہ جو شخص اللہ کی خاطر کسی چیز کو چھوڑ دیتا ہے، اللہ اسے اس سے بہتر چیز عطا فرماتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 31-35 — یوسف

31فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّينًا وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۖ فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنْ هَٰذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ
جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے
32قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ ۖ وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ ۖ وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّنَ الصَّاغِرِينَ
تب زلیخا نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بےشک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا
33قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ ۖ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ الْجَاهِلِينَ
یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا
34فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
تو خدا نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان سے عورتوں کا مکر دفع کر دیا۔ بےشک وہ سننے (اور) جاننے والا ہے
35ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّن بَعْدِ مَا رَأَوُا الْآيَاتِ لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّىٰ حِينٍ
پھر باوجود اس کے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے ان کی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصہ کے لیے ان کو قید ہی کردیں
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
33آیت

ترجمہ — یوسف 33

سورہ یوسف آیت 33 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف…

سورہ آیت 33/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 31–35. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں