ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- اقْتُلُوا: قتل کرو
- اطْرَحُوهُ: اسے پھینک دو
- أَرْضًا: کسی زمین (یعنی دور دراز علاقے) میں
- يَخْلُ لَكُمْ: خالص ہو جائے تمہارے لیے
- وَجْهُ أَبِيكُمْ: تمہارے باپ کا چہرہ (یعنی باپ کی توجہ اور محبت)
- مِن بَعْدِهِ: اس کے بعد (یوسف کے معاملے کے بعد)
- قَوْمًا صَالِحِينَ: نیک لوگ
تفسیر:
یہ برادرانِ یوسف علیہ السلام کی وہ خطرناک سازش ہے جو انہوں نے اپنے بھائی حضرت یوسف علیہ السلام کے خلاف ترتیب دی۔ ان کے دلوں میں حسد اور جلن کی آگ بھڑک رہی تھی کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ والدِ محترم حضرت یعقوب علیہ السلام یوسف سے بے حد محبت کرتے ہیں اور ان کی توجہ کا مرکز وہی ہے۔ شیطان نے ان کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالا کہ جب تک یوسف زندہ ہے، والد کی محبت تمہیں نہیں مل سکتی۔
انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا: "یوسف کو قتل کر دو یا اسے کسی دور دراز علاقے میں پھینک دو تاکہ تمہارے والد کا چہرہ (یعنی ان کی توجہ اور محبت) صرف تمہارے لیے خالص ہو جائے۔" یعنی جب یوسف راستے سے ہٹ جائے گا تو والد کی ساری محبت اور شفقت تمہاری طرف منتقل ہو جائے گی۔
پھر انہوں نے اپنے اس قبیح فعل کو ایک خوبصورت جامہ پہنانے کی کوشش کی اور کہا: "اور اس کے بعد تم نیک لوگ بن جانا۔" یعنی یہ سمجھا کہ اگر ہم یہ کام کر لیں گے تو پھر توبہ کر لیں گے، اللہ سے استغفار کریں گے اور نیک بن جائیں گے۔ ان کا خیال تھا کہ گناہ کر کے توبہ کر لینے سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔
یہ وہی شیطانی چال ہے جو انسان کو گناہ کی ترغیب دیتی ہے اور کہتی ہے کہ پہلے کام کر لو، بعد میں توبہ کر لینا۔ لیکن یہ سراسر دھوکہ ہے، کیونکہ گناہ کرنا اور پھر توبہ کی امید رکھنا شیطان کا سب سے بڑا فریب ہے۔
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:
- حسد کا انجام: حسد انسان کو کس قدر پست اور ظالم بنا دیتا ہے کہ بھائی اپنے بھائی کے قتل کی سازش کرنے لگتا ہے۔ حسد ایمان کو کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔
- توبہ کا جھوٹا بہانہ: گناہ کی منصوبہ بندی کرتے وقت توبہ کا وعدہ کرنا شیطانی حربہ ہے۔ انسان کو چاہیے کہ گناہ سے پہلے ہی باز رہے، گناہ کے بعد توبہ کی امید پر گناہ کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔
- اللہ کی حفاظت: یوسف علیہ السلام کو اللہ نے محفوظ رکھا۔ برادران کی سازش کامیاب نہ ہو سکی، بلکہ اللہ نے اس سازش کو یوسف علیہ السلام کے لیے عزت اور بلندی کا ذریعہ بنایا۔ یہ سبق ہے کہ اللہ اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے، چاہے ساری دنیا ان کے خلاف کیوں نہ ہو۔
- والدین کی محبت: اولاد کو کبھی والدین کی محبت میں حسد نہیں کرنا چاہیے۔ والدین کا دل اللہ کی طرف سے اپنی اولاد کے لیے محبت سے بھرا ہوتا ہے، اور اس میں کسی کا حصہ کم نہیں ہوتا۔
پیارے مسلمانو! ہمیں چاہیے کہ ہم حسد اور بغض سے بچیں، کیونکہ یہ وہ بیماریاں ہیں جنہوں نے پہلے امتوں کو تباہ کیا۔ آپس میں محبت اور بھائی چارگی کو فروغ دیں، اور یاد رکھیں کہ اللہ ہر سازش کو ناکام بنا دیتا ہے اور اپنے مخلص بندوں کی مدد کرتا ہے۔ یوسف علیہ السلام کی طرح صبر اور توکل علی اللہ ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
📜 آیت 7-11 — یوسف
ترجمہ — یوسف 9
سورہ یوسف آیت 9 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالو یا…سورہ آیت 9/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 7–11. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








