یوسف · 91/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
قَالُواْ تَٱللَّهِ لَقَدۡ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيۡنَا وَإِن كُنَّا لَخَٰطِـِٔينَ  ۝٩١
Qaaloo tallaahi laqad aasarakal laahu `alainaa wa in kunnaa lakhaati`een
📖 اردو ترجمہ
وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بےشک ہم خطاکار تھے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • آثَرَكَ: تجھے فضیلت دی، تجھ پر احسان کیا، تجھے برگزیدہ بنایا۔
  • لَخَاطِئِينَ: خطا کار، گنہگار، قصور وار۔ (یہاں یہ لفظ عمداً کیے گئے گناہ کے معنی میں ہے، جیسا کہ "خَطِئَ" کا صیغہ ہے، جو تعمّد پر دلالت کرتا ہے

تفسیر:

جب حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے سامنے اپنا راز افشا کر دیا اور فرمایا: "آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑا رحم فرمانے والا ہے" تو بھائیوں کے دل پسیج گئے اور ان کی زبان سے بے اختیار یہ اعتراف نکل پڑا: "اللہ کی قسم! اللہ نے تجھے ہم پر فضیلت دی ہے۔"

یہ اعتراف محض الفاظ نہیں تھے، بلکہ ان کے دلوں کی گہرائیوں سے نکلنے والی صداقت تھی۔ وہ خود دیکھ رہے تھے کہ یوسف علیہ السلام نے ان تمام مصیبتوں کے باوجود جو انہوں نے ان پر ڈھائیں، نہ صرف معاف کر دیا بلکہ ان کے لیے دعائے رحمت بھی کی۔ یہی تو وہ فضیلت تھی جو اللہ نے یوسف کو عطا کی تھی — صبر، حلم، بردباری، عفو و درگزر اور اعلیٰ اخلاق۔

پھر انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: "اور ہم واقعی خطا کار تھے۔" یعنی ہم نے تجھ سے اور تیرے بھائی بنیامین سے جو کچھ کیا، وہ سراسر غلطی، زیادتی اور گناہ تھا۔ ہم نے جان بوجھ کر یہ سب کیا، اور آج ہمیں اپنی اس حرکت پر شدید ندامت ہے۔

یہ وہ لمحہ تھا جب عجز و انکسار، توبہ اور اعترافِ جرم نے ان کے دلوں کو پاک کر دیا۔ انہوں نے یوسف کی عظمت کو تسلیم کیا اور اپنی کمزوری کا اعتراف کیا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:

  1. اعترافِ خطا انسان کو بلند کرتا ہے: جب انسان اپنی غلطی تسلیم کر لیتا ہے تو اللہ کے ہاں اس کا مقام بلند ہوتا ہے۔ بھائیوں نے اعتراف کیا تو اللہ نے انہیں معاف کیا اور ان کے دلوں کو جوڑ دیا۔
  2. معاف کرنے والا اللہ کا محبوب بندہ ہوتا ہے: حضرت یوسف علیہ السلام کا عفو و درگزر ان کی عظمت کا سبب بنا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللہ آپ کو بلند کرے تو معاف کرنا سیکھیں۔
  3. حسد اور بھائی چارگی کی تباہی: یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ حسد اور بغض کس طرح خاندانوں کو تباہ کر دیتے ہیں، لیکن توبہ اور معافی کس طرح دلوں کو جوڑ دیتی ہے۔
  4. اللہ کی مشیت غالب ہے: بھائیوں نے یوسف کو کنویں میں ڈالا، لیکن اللہ نے انہیں عزت و اقتدار کے تخت پر بٹھایا۔ جو اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے، انسان کی تدبیریں کچھ نہیں کر سکتیں۔

آئیے ہم بھی اپنی زندگیوں میں معاف کرنے والے بنیں، اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور اللہ سے توبہ کریں، تاکہ اللہ ہمیں بھی اسی طرح عزت دے جس طرح اس نے اپنے نبی یوسف علیہ السلام کو دی۔

🎧 سنیں

📜 آیت 89-93 — یوسف

89قَالَ هَلۡ عَلِمۡتُم مَّا فَعَلۡتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذۡ أَنتُمۡ جَٰهِلُونَ 
(یوسف نے) کہا تمہیں معلوم ہے جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا
90قَالُوٓاْ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُۖ قَالَ أَنَا۠ يُوسُفُ وَهَٰذَآ أَخِيۖ قَدۡ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡنَآۖ إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصۡبِرۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ 
وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
91قَالُواْ تَٱللَّهِ لَقَدۡ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيۡنَا وَإِن كُنَّا لَخَٰطِـِٔينَ 
وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بےشک ہم خطاکار تھے
92قَالَ لَا تَثۡرِيبَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡيَوۡمَۖ يَغۡفِرُ ٱللَّهُ لَكُمۡۖ وَهُوَ أَرۡحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ 
(یوسف نے) کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے
93ٱذۡهَبُواْ بِقَمِيصِي هَٰذَا فَأَلۡقُوهُ عَلَىٰ وَجۡهِ أَبِي يَأۡتِ بَصِيرًا وَأۡتُونِي بِأَهۡلِكُمۡ أَجۡمَعِينَ 
یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل وعیال کو میرے پاس لے آؤ
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
91آیت

ترجمہ — یوسف 91

سورہ آیت 91/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 89–93. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں