أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ: سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم فرمانے والا۔
تفسیر:
حضرت یوسف علیہ السلام نے جب اپنے بھائیوں کو اپنے سامنے شرمسار اور پشیمان دیکھا، اور انہوں نے اپنے قصور کا اعتراف کر لیا، تو آپ نے انہیں مزید شرمندہ نہ کرتے ہوئے بڑی شفقت اور درگزر کا معاملہ فرمایا۔ آپ نے کہا: "آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے، نہ کوئی سرزنش ہے اور نہ ہی میں تمہیں تمہارے ماضی کے قصور یاد دلا کر تمہیں تکلیف دوں گا۔" یہ فرما کر آپ نے ان کے دلوں کو تسلی دی اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔
پھر آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی: "اللہ تمہیں بخش دے، وہ سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔" یہ دعا آپ نے اس لیے کی تاکہ ان کے دلوں سے خوف اور پشیمانی کا بوجھ ہلکا ہو جائے اور وہ اللہ کی رحمت سے امید وابستہ کریں۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ معاف کرنے والا دل کتنا بلند ہوتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ ہر مسلمان کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ جب کوئی ہم سے خطا کرے اور معافی مانگے تو ہم درگزر کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ یاد رکھیں، جو شخص دوسروں کو معاف کرتا ہے، اللہ اسے بھی معاف فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اپنے بندوں پر اس قدر وسیع ہے کہ وہ ہر گناہ کو معاف کر سکتا ہے، بشرطیکہ بندہ سچے دل سے توبہ کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں، کیونکہ وہ ارحم الراحمین ہے۔
وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔