کوئی تم میں سے چپکے سے بات کہے یا پکار کر یا رات کو کہیں چھپ جائے یا دن کی روشنی میں کھلم کھلا چلے پھرے (اس کے نزدیک) برابر ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
لغات کے معانی:
أَسَرَّ الْقَوْلَ: بات کو چھپا کر کہنا، آہستہ آواز میں بولنا۔
جَهَرَ بِهِ: اسے بلند آواز سے کہنا، ظاہر کرنا۔
مُسْتَخْفٍ: چھپنے والا، پوشیدہ رہنے والا۔
سَارِبٌ: چلنے والا، راستے پر گزرنے والا، کھلے عام ظاہر ہونے والا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا علم ایسا کامل اور محیط ہے کہ اس کے نزدیک تمہارا کوئی قول یا فعل پوشیدہ نہیں۔ چاہے کوئی شخص اپنی بات کو دل میں چھپائے، آہستہ سے کہے، یا بلند آواز سے پکار کر کہے، اللہ کے علم میں سب برابر اور یکساں ہیں۔ اسی طرح جو شخص رات کی تاریکی میں چھپ کر کوئی کام کرتا ہے، اور جو دن کی روشنی میں کھلے عام اپنے اعمال کا مظاہرہ کرتا ہے، دونوں اللہ کے علم میں یکساں ہیں۔ رات کا اندھیرا اور دن کی روشنی، چھپنا اور ظاہر ہونا، سب اللہ کی نگاہ میں برابر ہیں، کیونکہ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
یہ آیت مبارکہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے علمِ کامل کا احساس دلاتی ہے۔ جب ہمیں یقین ہو جائے کہ اللہ ہر چیز کو دیکھتا اور سنتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی پوشیدہ ہو، تو ہمارے دل میں اللہ کا خوف اور ادب پیدا ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو ہمیشہ نیک بنائیں، چاہے لوگ دیکھیں یا نہ دیکھیں، کیونکہ اللہ تو ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔ یہی تقویٰ اور پرہیزگاری کی اصل روح ہے۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہم اپنی زندگی میں اخلاص پیدا کریں۔ کچھ لوگ رات کی تاریکی میں برے کام کرتے ہیں اور دن میں خود کو نیک ظاہر کرتے ہیں، لیکن اللہ کے علم سے کچھ چھپا نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ظاہر اور باطن دونوں کو صاف رکھیں، کیونکہ اللہ ہمارے دلوں کے بھید جانتا ہے۔ جب ہم یہ یقین رکھیں گے کہ اللہ ہر وقت ہمارے ساتھ ہے اور ہمیں دیکھ رہا ہے، تو ہم گناہوں سے بچیں گے اور نیکی کی طرف راغب ہوں گے۔ یہی وہ ایمان ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب بناتا ہے۔
اس کے آگے اور پیچھے خدا کے چوکیدار ہیں جو خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ خدا اس (نعمت) کو جو کسی قوم کو (حاصل) ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب خدا کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی۔ اور خدا کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔