Wa im maa nurriyannaka ba`dal lazee na`iduhum aw nata waffayannaka fa innamaa `alaikal balaaghu wa `alainal hisaab
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہیں دکھائیں (یعنی تمہارے روبرو ان پر نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کر دیں (یعنی تمہارے انتقال کے بعد عذاب بھیجیں) تو تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اگر پارهاى از آنچه را كه به آنها وعده كردهايم به تو بنمايانيم، يا تو را پيش از وقت بميرانيم، در هر حال آنچه بر عهده توست تبليغ است و آنچه بر عهده ماست حسابكشيدن.
اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہیں دکھائیں (یعنی تمہارے روبرو ان پر نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کر دیں (یعنی تمہارے انتقال کے بعد عذاب بھیجیں) تو تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
نُرِيَنَّكَ: ہمیں تجھے دکھا دیں
نَعِدُهُمْ: جس کا ہم ان سے وعدہ کر چکے ہیں (عذاب یا سزا)
نَتَوَفَّيَنَّكَ: ہم تجھے وفات دے دیں (یعنی اس سے پہلے تو دنیا سے چلا جائے)
الْبَلَاغُ: پیغام پہنچانا
الْحِسَابُ: حساب لینا اور جزا دینا
تفسیر:
اے محبوب نبی! اللہ تعالیٰ آپ کو تسلی دے رہا ہے کہ اگر ہم آپ کی زندگی میں ہی آپ کے دشمنوں کو وہ عذاب اور ذلت دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے، تو یہ ہمارا فضل اور ان کی سزا کا عاجل نمونہ ہوگا۔ اور اگر ہم آپ کو اس سے پہلے اپنے پاس بلا لیں، تو آپ کو کسی قسم کی کوئی فکر نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ آپ کا کام صرف اور صرف اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا ہے، بس! آپ نے تبلیغ کا حق ادا کر دیا، اب ان کے حساب و کتاب کا معاملہ ہمارے ذمے ہے۔ ہم ہی ان کے اعمال کا حساب لیں گے، ہم ہی انہیں جزا دیں گے، اور ہم ہی ان سے بدلہ لیں گے۔
یہ آیت مبارکہ نبی کریم ﷺ کے لیے بہت بڑی تسلی اور اطمینان کا پیغام ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کو یہ یقین دلا رہا ہے کہ آپ کا کام صرف پیغام پہنچانا ہے، نتیجہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ آپ نے اپنی ذمہ داری نبھا دی، اب جو لوگ آپ کی دعوت قبول نہیں کرتے، ان کا معاملہ ہمارے سپرد ہے۔ ہم ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دیں گے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ دین کے کام میں ہمیں صرف اپنا فرض ادا کرنا ہے، نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔ کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ آج کے دور میں بھی جب ہم لوگوں کو حق کی دعوت دیتے ہیں، تو ہمیں صبر اور استقامت کے ساتھ اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو اس کی سزا دے گا، اور ہر نیک کو اس کا اجر عطا فرمائے گا۔ یہی اللہ کا قانون ہے جو کبھی بدلتا نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال پر نظر رکھیں، کیونکہ حساب کا دن ضرور آنے والا ہے، اور اس دن ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ ملے گا۔ اللہ ہمیں عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے تھے۔ اور ان کو بیبیاں اور اولاد بھی دی تھی ۔اور کسی پیغمبر کے اختیار کی بات نہ تھی کہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی نشانی لائے۔ ہر (حکم) قضا (کتاب میں) مرقوم ہے
اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہیں دکھائیں (یعنی تمہارے روبرو ان پر نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کر دیں (یعنی تمہارے انتقال کے بعد عذاب بھیجیں) تو تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ اور خدا (جیسا چاہتا ہے) حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کا رد کرنے والا نہیں۔ اور وہ جلد حساب لینے والا ہے
جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی (بہتری) چالیں چلتے رہے ہیں سو چال تو سب الله ہی کی ہے ہر متنفس جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے جانتا ہے۔ اور کافر جلد معلوم کریں گے کہ عاقبت کا گھر (یعنی انجام محمود) کس کے لیے ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔