اللہ تعالیٰ اپنی حکمتِ کاملہ کے مطابق جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے۔ یہ محو و اثبات اُس کے احکام، شرائع، تقدیرات اور حالات سب پر محیط ہے۔ کبھی وہ کسی حکم کو منسوخ فرما دیتا ہے، کبھی کسی تقدیر کو بدل دیتا ہے، کبھی کسی بندے کی حالت کو خیر سے شر یا شر سے خیر کی طرف پھیر دیتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ اُس کے علمِ ازلی اور حکمتِ بالغہ کے مطابق ہوتا ہے۔ اُس کے پاس "ام الکتاب" یعنی لوحِ محفوظ ہے، جو تمام مٹانے اور باقی رکھنے کی اصل جڑ ہے۔ اُس میں جو کچھ لکھا جا چکا ہے وہ اٹل اور ناقابلِ تغیر ہے۔ جو کچھ ظاہر میں محو یا اثبات ہوتا ہے، وہ اُسی لوحِ محفوظ کے مطابق ہوتا ہے، کیونکہ اللہ کا علم بدلتا نہیں، اُس کے فیصلے حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیتِ کریمہ سے ہمیں یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ اپنی مخلوق کے معاملات میں تصرف فرما رہا ہے۔ وہی بدلتا ہے، وہی باقی رکھتا ہے، وہی تقدیر بدلنے پر قادر ہے۔ جب ہم یہ جان لیں کہ اللہ کے ہاتھ میں سب کچھ ہے، تو ہمارے دل میں اُس کی عظمت اور محبت بڑھ جاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں اُسی پر بھروسہ کریں، اُسی سے دعا کریں، اور یقین رکھیں کہ وہ ہماری تقدیر کو بہتر سے بہتر بنا سکتا ہے۔ دعا وہ عظیم ذریعہ ہے جس کے ذریعے بندہ اللہ کی رحمت کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اللہ اپنی حکمت سے اُس کی تقدیر کو بدل دیتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم دعا کو کبھی ترک نہ کریں، کیونکہ دعا مومن کا ہتھیار ہے اور اللہ کے نزدیک محبوب عمل ہے۔ یہ آیت ہمیں اللہ کی قدرتِ کاملہ پر ایمان لانے کی دعوت دیتی ہے اور یہ باور کراتی ہے کہ اُس کے علم و حکمت کی کوئی انتہا نہیں۔
اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان نازل کیا ہے۔ اور اگر تم علم (ودانش) آنے کے بعد ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو خدا کے سامنے کوئی نہ تمہارا مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا
اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے تھے۔ اور ان کو بیبیاں اور اولاد بھی دی تھی ۔اور کسی پیغمبر کے اختیار کی بات نہ تھی کہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی نشانی لائے۔ ہر (حکم) قضا (کتاب میں) مرقوم ہے
اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہیں دکھائیں (یعنی تمہارے روبرو ان پر نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کر دیں (یعنی تمہارے انتقال کے بعد عذاب بھیجیں) تو تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ اور خدا (جیسا چاہتا ہے) حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کا رد کرنے والا نہیں۔ اور وہ جلد حساب لینے والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔