ابراہیم · 10/52
ترجمہ تلفظ — ابراہیم
۞ قَالَتْ رُسُلُهُمْ أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ قَالُوا إِنْ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ ۝١٠
Qaalat Rusuluhum afillaahi shakkun faatiris samaawaati wal ardi yad`ookum liyaghfira lakum min zunoobikum wa yu`akhkhirakum ilaaa ajalim musam maa; qaaloo in antum illaa basharum mislunaa tureedoona an tasuddoonaa `ammaa kaana ya`budu aabaaa`unaa faatoonaa bisul taanim mubeen
📖 اردو ترجمہ
ان کے پیغمبروں نے کہا کیا (تم کو) خدا (کے بارے) میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ وہ تمہیں اس لیے بلاتا ہے کہ تمہارے گناہ بخشے اور (فائدہ پہنچانے کے لیے) ایک مدت مقرر تک تم کو مہلت دے۔ وہ بولے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تمہارا یہ منشاء ہے کہ جن چیزوں کو ہمارے بڑے پوجتے رہے ہیں ان (کے پوجنے) سے ہم کو بند کر دو تو (اچھا) کوئی کھلی دلیل لاؤ (یعنی معجزہ دکھاؤ)
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ: آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا، وجود میں لانے والا۔
  • لِیَغْفِرَ لَکُم مِّن ذُنُوبِکُمْ: تمہارے گناہوں میں سے معاف کر دے۔
  • یُؤَخِّرَکُمْ: تمہیں مہلت دے، تمہاری موت کو مؤخر کرے۔
  • أَجَلٍ مُسَمًّی: ایک مقررہ وقت، جو اللہ کے علم میں متعین ہے۔
  • سُلْطَانٍ مُبِینٍ: واضح دلیل، روشن معجزہ، کھلی حجت۔

تفسیر:

جب رسولوں نے اپنی قوموں کو توحید کی دعوت دی اور انہیں بتایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تو ان کی قوموں نے تعجب اور انکار سے کہا: "تم ہمارے جیسے بشر ہو، تمہیں کیا حق ہے کہ ہمیں ہمارے آباء و اجداد کے دین سے روکو؟" اس پر رسولوں نے بڑے حکمت اور شفقت کے ساتھ جواب دیا: "کیا اللہ کے بارے میں کوئی شک ہو سکتا ہے؟" یعنی کیا اس ذات کے وجود اور اس کی عبادت میں کوئی تردد ممکن ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے، جس نے انہیں عدم سے وجود بخشا، بغیر کسی نمونے کے پیدا کیا؟ وہی ہے جس نے کائنات کا نظام قائم کیا، اور اسی کی قدرت کا کوئی ثانی نہیں۔

پھر رسولوں نے اپنی قوموں کو اس دعوت کا مقصد بتایا: "وہ تمہیں بلا رہا ہے تاکہ تمہارے گناہ معاف کرے اور تمہیں ایک مقررہ مدت تک مہلت دے۔" یعنی اللہ تمہیں اپنی طرف بلا رہا ہے، نہ کہ تمہیں نقصان پہنچانے کے لیے۔ وہ چاہتا ہے کہ تم ایمان لاؤ، تو وہ تمہارے پچھلے گناہوں کو بخش دے، اور تمہیں عذاب میں مبتلا کیے بغیر تمہاری زندگی کو مقررہ مدت تک جاری رکھے۔ یہ اللہ کی رحمت اور فضل ہے کہ وہ تمہیں توبہ کا موقع دے رہا ہے۔

لیکن ان کی قوموں نے ہٹ دھرمی سے جواب دیا: "تم تو ہم جیسے بشر ہو، تم میں کوئی ایسی فضیلت نہیں جو تمہیں رسول بنانے کا مستحق ٹھہرائے۔ تم صرف یہ چاہتے ہو کہ ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکو جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں۔ اگر تم سچے ہو تو کوئی کھلی دلیل اور روشن معجزہ لاؤ جو تمہارے دعوے کی تصدیق کرے۔"

یہ جواب دراصل ان کی جہالت اور ضد کا مظہر تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ رسالت کا تعلق بشریت سے نہیں ہو سکتا، حالانکہ اللہ نے ہمیشہ انسانوں ہی میں سے رسول بھیجے ہیں تاکہ وہ لوگوں سے براہِ راست بات کر سکیں۔ انہوں نے آباء و اجداد کی تقلید کو دلیل بنا لیا تھا، حالانکہ تقلید حق کی کسوٹی نہیں ہو سکتی۔ اور انہوں نے معجزے کا مطالبہ کیا، حالانکہ رسولوں کے پاس اللہ کی طرف سے واضح نشانیاں اور دلائل موجود تھے، مگر وہ دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔


دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے، ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی ذات اور اس کی عبادت میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ جو شخص آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرے، وہ اللہ کے وجود اور اس کی قدرت پر یقین کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ دوسرا، اللہ کی دعوت ہمیشہ رحمت اور بخشش پر مبنی ہوتی ہے، وہ اپنے بندوں کو عذاب کی جلدی نہیں کرتا، بلکہ انہیں توبہ اور اصلاح کا موقع دیتا ہے۔ تیسرا، ہمیں چاہیے کہ حق کو قبول کریں، چاہے وہ کسی کے بھی ذریعے سے آئے، اور آباء و اجداد کی تقلید کو حق پر مقدم نہ کریں۔ اللہ ہمیں حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 8-12 — ابراہیم

8وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ
اور موسیٰ نے (صاف صاف) کہہ دیا کہ اگر تم اور جتنے اور لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ناشکری کرو تو خدا بھی بےنیاز (اور) قابل تعریف ہے
9أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَأُ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ ۛ وَالَّذِينَ مِن بَعْدِهِمْ ۛ لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا اللَّهُ ۚ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ وَقَالُوا إِنَّا كَفَرْنَا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ وَإِنَّا لَفِي شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُونَنَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ
بھلا تم کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے (یعنی) نوح اور عاد اور ثمود کی قوم۔ اور جو ان کے بعد تھے۔ جن کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں (جب) ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دیئے (کہ خاموش رہو) اور کہنے لگے کہ ہم تو تمہاری رسالت کو تسلیم نہیں کرتے اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے قوی شک میں ہیں
10۞ قَالَتْ رُسُلُهُمْ أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ قَالُوا إِنْ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
ان کے پیغمبروں نے کہا کیا (تم کو) خدا (کے بارے) میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ وہ تمہیں اس لیے بلاتا ہے کہ تمہارے گناہ بخشے اور (فائدہ پہنچانے کے لیے) ایک مدت مقرر تک تم کو مہلت دے۔ وہ بولے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تمہارا یہ منشاء ہے کہ جن چیزوں کو ہمارے بڑے پوجتے رہے ہیں ان (کے پوجنے) سے ہم کو بند کر دو تو (اچھا) کوئی کھلی دلیل لاؤ (یعنی معجزہ دکھاؤ)
11قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَمَا كَانَ لَنَا أَن نَّأْتِيَكُم بِسُلْطَانٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
پیغمبروں نے ان سے کہا کہ ہاں ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں۔ لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے (نبوت کا) احسان کرتا ہے اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم خدا کے حکم کے بغیر تم کو (تمہاری فرمائش کے مطابق) معجزہ دکھائیں اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیئے
12وَمَا لَنَا أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا ۚ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَا آذَيْتُمُونَا ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ
اور ہم کیونکر خدا پر بھروسہ نہ رکھیں حالانکہ اس نے ہم کو ہمارے (دین کے سیدھے) رستے بتائے ہیں۔ جو تکلیفیں تم ہم کو دیتے ہو اس پر صبر کریں گے۔ اور اہل توکل کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
ابراہیمقرآن فہرست
52آیت
مکیRevelation
10آیت

ترجمہ — ابراہیم 10

سورہ ابراہیم آیت 10 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ان کے پیغمبروں نے کہا کیا (تم کو) خدا (کے…

سورہ آیت 10/52 — ابراہیم إبراهيم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ابراہیم سنیں, ابراہیم ترجمہ, ابراہیم mp3, ابراہیم pdf. آیت 8–12. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں