ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ: آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا، وجود میں لانے والا۔
- لِیَغْفِرَ لَکُم مِّن ذُنُوبِکُمْ: تمہارے گناہوں میں سے معاف کر دے۔
- یُؤَخِّرَکُمْ: تمہیں مہلت دے، تمہاری موت کو مؤخر کرے۔
- أَجَلٍ مُسَمًّی: ایک مقررہ وقت، جو اللہ کے علم میں متعین ہے۔
- سُلْطَانٍ مُبِینٍ: واضح دلیل، روشن معجزہ، کھلی حجت۔
تفسیر:
جب رسولوں نے اپنی قوموں کو توحید کی دعوت دی اور انہیں بتایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تو ان کی قوموں نے تعجب اور انکار سے کہا: "تم ہمارے جیسے بشر ہو، تمہیں کیا حق ہے کہ ہمیں ہمارے آباء و اجداد کے دین سے روکو؟" اس پر رسولوں نے بڑے حکمت اور شفقت کے ساتھ جواب دیا: "کیا اللہ کے بارے میں کوئی شک ہو سکتا ہے؟" یعنی کیا اس ذات کے وجود اور اس کی عبادت میں کوئی تردد ممکن ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے، جس نے انہیں عدم سے وجود بخشا، بغیر کسی نمونے کے پیدا کیا؟ وہی ہے جس نے کائنات کا نظام قائم کیا، اور اسی کی قدرت کا کوئی ثانی نہیں۔
پھر رسولوں نے اپنی قوموں کو اس دعوت کا مقصد بتایا: "وہ تمہیں بلا رہا ہے تاکہ تمہارے گناہ معاف کرے اور تمہیں ایک مقررہ مدت تک مہلت دے۔" یعنی اللہ تمہیں اپنی طرف بلا رہا ہے، نہ کہ تمہیں نقصان پہنچانے کے لیے۔ وہ چاہتا ہے کہ تم ایمان لاؤ، تو وہ تمہارے پچھلے گناہوں کو بخش دے، اور تمہیں عذاب میں مبتلا کیے بغیر تمہاری زندگی کو مقررہ مدت تک جاری رکھے۔ یہ اللہ کی رحمت اور فضل ہے کہ وہ تمہیں توبہ کا موقع دے رہا ہے۔
لیکن ان کی قوموں نے ہٹ دھرمی سے جواب دیا: "تم تو ہم جیسے بشر ہو، تم میں کوئی ایسی فضیلت نہیں جو تمہیں رسول بنانے کا مستحق ٹھہرائے۔ تم صرف یہ چاہتے ہو کہ ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکو جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں۔ اگر تم سچے ہو تو کوئی کھلی دلیل اور روشن معجزہ لاؤ جو تمہارے دعوے کی تصدیق کرے۔"
یہ جواب دراصل ان کی جہالت اور ضد کا مظہر تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ رسالت کا تعلق بشریت سے نہیں ہو سکتا، حالانکہ اللہ نے ہمیشہ انسانوں ہی میں سے رسول بھیجے ہیں تاکہ وہ لوگوں سے براہِ راست بات کر سکیں۔ انہوں نے آباء و اجداد کی تقلید کو دلیل بنا لیا تھا، حالانکہ تقلید حق کی کسوٹی نہیں ہو سکتی۔ اور انہوں نے معجزے کا مطالبہ کیا، حالانکہ رسولوں کے پاس اللہ کی طرف سے واضح نشانیاں اور دلائل موجود تھے، مگر وہ دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے، ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی ذات اور اس کی عبادت میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ جو شخص آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرے، وہ اللہ کے وجود اور اس کی قدرت پر یقین کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ دوسرا، اللہ کی دعوت ہمیشہ رحمت اور بخشش پر مبنی ہوتی ہے، وہ اپنے بندوں کو عذاب کی جلدی نہیں کرتا، بلکہ انہیں توبہ اور اصلاح کا موقع دیتا ہے۔ تیسرا، ہمیں چاہیے کہ حق کو قبول کریں، چاہے وہ کسی کے بھی ذریعے سے آئے، اور آباء و اجداد کی تقلید کو حق پر مقدم نہ کریں۔ اللہ ہمیں حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 8-12 — ابراہیم
ترجمہ — ابراہیم 10
سورہ ابراہیم آیت 10 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ان کے پیغمبروں نے کہا کیا (تم کو) خدا (کے…سورہ آیت 10/52 — ابراہیم إبراهيم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ابراہیم سنیں, ابراہیم ترجمہ, ابراہیم mp3, ابراہیم pdf. آیت 8–12. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








