Wa barazoo lillaahi jamee`an faqaalad du`afaaa`u lillazeenas takbarooo innaa kunnaa lakum taba`an fahal antum mughnoona `annaa min `azaabil laahi min shai`; qaaloo law hadaanal laahu lahadai naakum sawaaa`un `alainaaa ajazi`naa am sabarnaa maa lanaa mim mahees
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف (العقل متبع اپنے رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو۔ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا ضد کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لیے نہیں ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
همه در پيشگاه خدا حاضر آيند. ناتوانان به آنان كه گردنكشى مىكردند گويند: ما پيرو شما بوديم. آيا اكنون مىتوانيد ما را به كار آييد و اندكى از عذاب خدا را از ما دفع كنيد؟ گويند: اگر خدا ما را هدايت كرده بود، ما نيز شما را هدايت مىكرديم. حال ما را راه خلاصى نيست، براى ما يكسان است چه بيتابى كنيم، چه شكيبايى ورزيم.
اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف (العقل متبع اپنے رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو۔ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا ضد کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لیے نہیں ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بَرَزُوا: میدانِ حشر میں نکل آئے، ظاہر ہو گئے۔
الضُّعَفَاء: کمزور لوگ، مراد پیروکار ہیں۔
تَبَعًا: پیروکار، اتباع کرنے والے۔
مُغْنُونَ: بچانے والے، دفع کرنے والے۔
مَحِیص: بچنے کی جگہ، پناہ گاہ، راہِ فرار۔
تفسیر:
قیامت کا وہ ہولناک منظر! جب تمام خلائق اپنی قبروں سے نکل کر اللہ ربّ العزت کے سامنے پیش ہوں گے، اور ہر ایک کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ اس دن تمام لوگ، چھوٹے بڑے، امیر غریب، سب یکجا ہو کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اس وقت کمزور اور پیروکار لوگ اپنے بڑوں اور سرداروں سے کہیں گے: "ہم تو دنیا میں تمہارے پیچھے چلتے تھے، تمہارے حکم کے تابع تھے، تم ہی نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ کیا آج تم ہم سے اللہ کے عذاب کا کچھ بھی حصہ ہٹا سکتے ہو؟ کیا تم ہمیں اس عذاب سے بچا سکتے ہو جس کا تم نے ہم سے وعدہ کیا تھا؟"
اس پر وہ بڑے اور متکبر رہنما جواب دیں گے: "افسوس! اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تمہیں بھی ہدایت دیتے، لیکن ہم خود گمراہ تھے اور تمہیں بھی گمراہ کیا۔ آج نہ ہمیں کوئی راہِ نجات نظر آتی ہے اور نہ تمہیں۔" پھر وہ سب مل کر کہیں گے: "اب ہمارے لیے یکساں ہے کہ ہم صبر کریں یا بے صبری کریں، دونوں صورتوں میں عذاب سے بچنا ناممکن ہے۔ نہ ہمارے لیے کوئی بچنے کی جگہ ہے، نہ کوئی پناہ گاہ، نہ کوئی مددگار۔"
دعوتی پہلو:
اس آیتِ کریمہ سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہمیں دنیا میں کسی کی اندھی تقلید نہیں کرنی چاہیے۔ ہر انسان کو خود اپنے رب کے سامنے جوابدہ ہونا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں خود سوچیں، سمجھیں اور صراطِ مستقیم پر چلیں۔ یاد رکھیں! قیامت کے دن کوئی کسی کا ساتھ نہیں دے گا، نہ کوئی بڑا اپنے چھوٹے کو بچا سکے گا اور نہ چھوٹا بڑے کو۔ آج جو لوگ ہمیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان سے بچ کر رہیں، کیونکہ آخرت میں پچھتانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو اپنے رب کی رضا کے طلب گار ہیں۔ آمین!
اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف (العقل متبع اپنے رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو۔ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا ضد کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لیے نہیں ہے
جب (حساب کتاب کا) کام فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی طرف) بلایا تو تم نے (جلدی سے اور بےدلیل) میرا کہا مان لیا۔ تو (آج) مجھے ملامت نہ کرو۔ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے۔ بےشک جو ظالم ہیں ان کے لیے درد دینے والا عذاب ہے
اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کیے وہ بہشتوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ وہاں ان کی صاحب سلامت سلام ہوگا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔