(اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور ان کے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہوں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مُهْطِعِینَ: ڈرتے ہوئے تیزی سے چلنے والے، کسی کی طرف بڑھنے والے۔
مُقْنِعِی رُءُوسِهِمْ: اپنے سروں کو اوپر اٹھائے ہوئے۔
لَا یَرْتَدُّ إِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ: ان کی آنکھوں کی پلکیں ان کی طرف واپس نہیں آتیں، یعنی نگاہیں جمی ہوئی ہیں، جھپک نہیں سکتیں۔
وَأَفْئِدَتُهُمْ هَوَاءٌ: ان کے دل خالی اور کھوکھلے ہیں، ان میں کوئی سمجھ یا شعور نہیں۔
تفسیر:
یہ وہ ہولناک منظر ہے جب ظالم لوگ اپنی قبروں سے اٹھیں گے اور اس پکارنے والے (اسرافیل علیہ السلام) کی طرف دوڑتے ہوئے جائیں گے۔ وہ اس قدر خوف زدہ ہوں گے کہ ان کے سر خوف کے مارے اوپر اٹھے ہوئے ہوں گے، اور ان کی آنکھیں شدتِ خوف سے اس طرح جم جائیں گی کہ پلکیں بھی نہ جھپک سکیں گی۔ ان کی نگاہیں حیرت اور دہشت سے کھلی رہ جائیں گی، نہ وہ کچھ دیکھ سکیں گے نہ سمجھ سکیں گے۔ ان کے دل بالکل خالی اور کھوکھلے ہو جائیں گے، جیسے ہوا کا خالی ڈبہ ہو — نہ ان میں کوئی عقل باقی رہے گی، نہ سمجھ، نہ کوئی احساس۔ شدتِ خوف نے ان کے دلوں کو اس طرح خالی کر دیا ہوگا کہ وہ کسی بات پر غور کرنے کے قابل نہ ہوں گے۔
دعوتی پہلو:
یہ منظر قیامت کی ہولناکیوں کا ایک چھوٹا سا نقشہ ہے۔ جب ہم اس آیت پر غور کرتے ہیں تو ہمارے دل کانپ اٹھتے ہیں کہ اس دن کا خوف کتنا بڑا ہوگا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رحمت والے بندوں کے لیے اس دن کو آسان بنا دیا ہے۔ جو لوگ دنیا میں اللہ سے ڈرتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں، اور اپنے اعمال سنوارتے ہیں، ان کے لیے قیامت کا دن خوف کا نہیں، بلکہ کامیابی اور خوشی کا دن ہوگا۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: "جس دن ہم متقیوں کو رحمٰن کی طرف مہمانوں کی صورت میں جمع کریں گے" (مریم: 85)۔ لہٰذا آج ہم جو بھی قدم اٹھائیں، اس دن کی فکر کرتے ہوئے اٹھائیں، تاکہ اس دن ہم خوف زدہ اور پریشان نہ ہوں، بلکہ اللہ کی رحمت کے سائے میں ہوں۔ اللہ ہمیں اس دن کے خوف سے بچائے اور اپنی اطاعت کی توفیق دے۔ آمین۔
اور (مومنو) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں خدا ان سے بےخبر ہے۔ وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ (دہشت کے سبب) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی
اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کردو جب ان پر عذاب آجائے گا تب ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مدت مہلت عطا کر۔ تاکہ تیری دعوت (توحید) قبول کریں اور (تیرے) پیغمبروں کے پیچھے چلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے کہ تم کو (اس حال سے جس میں تم ہو) زوال (اور قیامت کو حساب اعمال) نہیں ہوگا
اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے) کے لیے مثالیں بیان کر دی تھیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔