نحل · 120/128
ترجمہ تلفظ — نحل
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۝١٢٠
Inna Ibraaheema kaana ummatan qaanital lillaahi Haneefanw wa lam yakuminal mushrikeen
📖 اردو ترجمہ
بےشک ابراہیم (لوگوں کے) امام اور خدا کے فرمانبردار تھے۔ جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أُمَّةً: امامِ خیر، پیشوا اور اسوۂ حسنہ۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس کا مطلب ہے تمام خوبیوں کو اپنے اندر جمع کرنے والا۔
  • قَانِتًا: اللہ کی اطاعت میں ڈٹ جانے والا، ہمیشہ فرمانبردار اور خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت گزار۔
  • حَنِيفًا: باطل سے ہٹ کر حق کی طرف مائل ہونے والا، توحید پر قائم رہنے والا، ہر باطل دین سے کنارہ کش۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظمت و رفعت کا ذکر فرما رہے ہیں تاکہ اہلِ مکہ کو ان کی اتباع کی دعوت دی جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اکیلے ایک پوری امت تھے، یعنی وہ تنہا اپنی ذات میں خیر کے تمام پہلوؤں کے امام اور پیشوا تھے۔ وہ اللہ کے سامنے ہمیشہ سر تسلیم خم رکھنے والے، اطاعت میں ڈٹ جانے والے اور ہر حال میں اللہ کے فرمانبردار تھے۔ وہ حنیف تھے، یعنی انہوں نے تمام باطل مذاہب اور شرک سے کنارہ کشی اختیار کی اور صرف توحیدِ الٰہی کو اپنا راستہ بنایا۔ وہ کبھی مشرکین میں شامل نہیں ہوئے، نہ اپنے والد کے دین پر رہے اور نہ قوم کے شرک کو قبول کیا۔ ان کی ساری زندگی اسی بات کی گواہ ہے کہ انہوں نے ہر قسم کے شرک سے برأت کا اعلان کیا اور صرف اللہ کی عبادت کو اپنا شیوہ بنایا۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ان صفات کو اس لیے بیان فرمایا تاکہ مسلمانوں کے لیے ان کی شخصیت ایک مکمل نمونہ ہو۔ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تنہا اپنے زمانے کی باطل قوموں کا مقابلہ کیا اور توحید کی راہ پر ثابت قدم رہے، اسی طرح ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے میں خیر کا امام بنے، اللہ کی اطاعت میں ڈٹا رہے، اور ہر قسم کے شرک اور باطل سے دور رہے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ سچائی پر قائم رہنے کے لیے تنہائی کا سامنا کرنا پڑے تو بھی پیچھے نہ ہٹیں، کیونکہ اللہ اپنے نیک بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان کی راہ میں قربانیاں دینی پڑتی ہیں، لیکن اللہ کی مدد ہمیشہ سچوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ آئیے ہم بھی اپنی زندگیوں کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت کے مطابق ڈھالیں، توحید کو اپنا شعار بنائیں، اور اپنے گھروں اور معاشروں میں خیر و تقویٰ کا علم بلند کریں۔ اللہ ہمیں ان کی اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



📜 آیت 118-122 — نحل

118وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِن قَبْلُ ۖ وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
اور چیزیں ہم تم سے پہلے بیان کرچکے ہیں وہ ہم نے یہودیوں پر حرام کردی تھیں۔ اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
119ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
پھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا۔ پھر اس کے بعد توبہ کی اور نیکوکار ہوگئے تو تمہارا پروردگار (ان کو) توبہ کرنے اور نیکوکار ہوجانے کے بعد بخشنے والا اور ان پر رحمت کرنے والا ہے
120إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
بےشک ابراہیم (لوگوں کے) امام اور خدا کے فرمانبردار تھے۔ جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
121شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ ۚ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
اس کی نعمتوں کے شکرگزار تھے۔ خدا نے ان کو برگزیدہ کیا تھا اور (اپنی) سیدھی راہ پر چلایا تھا
122وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی خوبی دی تھی۔ اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے
نحلقرآن فہرست
128آیت
مکیRevelation
120آیت

ترجمہ — نحل 120

سورہ نحل آیت 120 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بےشک ابراہیم (لوگوں کے) امام اور خدا کے فرمانبردار تھے۔…

سورہ آیت 120/128 — نحل النحل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نحل سنیں, نحل ترجمہ, نحل mp3, نحل pdf. آیت 118–122. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں