aw khalqam mimmaa yakburu fee sudoorikum; fasa yaqooloona mai yu`eedunaa qulil lazee fatarakum awwala marrah; fasa yunghidoona ilaika ru`oosahum wa yaqooloona mataa huwa qul `asaaa any yakoona qareeba
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
یا کوئی اور چیز جو تمہارے نزدیک (پتھر اور لوہے سے بھی) بڑی (سخت) ہو (جھٹ کہیں گے) کہ (بھلا) ہمیں دوبارہ کون جِلائے گا؟ کہہ دو کہ وہی جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا۔ تو (تعجب سے) تمہارے آگے سرہلائیں گے اور پوچھیں گے کہ ایسا کب ہوگا؟ کہہ دو کہ امید ہے جلد ہوگا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
يا مخلوقى كه در خاطرتان بزرگ مىنمايد. خواهند گفت: چه كسى ما را بازمىگرداند؟ بگو: آن كس كه بار نخست شما را آفريد. آنگاه در برابر تو سر مىجنبانند و مىگويند: چه وقت؟ بگو: ممكن است كه در همين نزديكى؛
یا کوئی اور چیز جو تمہارے نزدیک (پتھر اور لوہے سے بھی) بڑی (سخت) ہو (جھٹ کہیں گے) کہ (بھلا) ہمیں دوبارہ کون جِلائے گا؟ کہہ دو کہ وہی جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا۔ تو (تعجب سے) تمہارے آگے سرہلائیں گے اور پوچھیں گے کہ ایسا کب ہوگا؟ کہہ دو کہ امید ہے جلد ہوگا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِي صُدُورِكُمْ: یا ایسی مخلوق بن جاؤ جو تمہارے دلوں میں بہت بڑی اور ہیبت ناک ہو، جیسے آسمان، زمین، پہاڑ، یا موت itself۔
فَسَيُنْغِضُونَ: وہ اپنے سر ہلائیں گے (طعنہ اور استہزاء کے طور پر)۔
عَسَىٰ: قریب ہے، امید ہے (جب اللہ تعالیٰ فرمائے تو یقینی ہے)۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مشرکین اور منکرینِ بعث کو مخاطب کر کے فرمایا: اگر تمہیں یہ مشکل لگتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاؤ گے، تو تم آسمان، زمین، پہاڑ، یا موت جیسی عظیم مخلوق بن جاؤ، پھر بھی اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ اللہ کی قدرت کے سامنے کوئی چیز عاجز نہیں، چاہے وہ کتنی ہی بڑی اور سخت کیوں نہ ہو۔ یہاں اکثر مفسرین نے "مما یکبر فی صدورکم" سے مراد موت لی ہے، کیونکہ انسان کے لیے موت سے بڑھ کر کوئی چیز ہیبت ناک نہیں، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم خود موت بن جاؤ تب بھی میں تمہیں زندہ کر دوں گا۔
جب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے یہ دلائل پیش کیے جائیں گے تو یہ منکرین تعجب اور استہزاء کے انداز میں پوچھیں گے: "ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا؟" تو آپ ﷺ انہیں جواب دیں: "وہ اللہ جو تمہیں پہلی بار پیدا کر چکا ہے، وہی تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔" جس نے تمہیں عدم سے وجود بخشا، وہی تمہیں موت کے بعد حیات عطا کرے گا۔ یہ سن کر وہ اپنے سر طعنہ اور مذاق کے طور پر ہلائیں گے اور کہیں گے: "یہ کب ہوگا؟" تو آپ ﷺ فرمائیں: "یہ قریب ہے۔" کیونکہ اللہ کے ہاں ہر انے والی چیز قریب ہے، اور جب وہ وقت آئے گا تو کوئی اسے ٹال نہ سکے گا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں اللہ کی عظیم قدرت پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ جس نے کائنات کو عدم سے پیدا کیا، وہ یقیناً موت کے بعد دوبارہ زندگی دینے پر قادر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو اس یقین سے بھریں کہ اللہ کی قدرت کے آگے کوئی چیز مشکل نہیں، اور آخرت کا دن یقینی طور پر آنے والا ہے۔ یہ ایمان ہمیں نیک عمل کی ترغیب دیتا ہے اور ہمیں اس دن کے لیے تیار رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ہمیں یہ بھی سکھایا کہ منکرین کی باتوں سے دل شکستہ نہ ہوں، بلکہ حکمت اور خوبصورتی سے جواب دیں، کیونکہ حق خود واضح ہے اور اللہ کی قدرت کا کوئی مقابلہ نہیں۔
یا کوئی اور چیز جو تمہارے نزدیک (پتھر اور لوہے سے بھی) بڑی (سخت) ہو (جھٹ کہیں گے) کہ (بھلا) ہمیں دوبارہ کون جِلائے گا؟ کہہ دو کہ وہی جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا۔ تو (تعجب سے) تمہارے آگے سرہلائیں گے اور پوچھیں گے کہ ایسا کب ہوگا؟ کہہ دو کہ امید ہے جلد ہوگا
اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ (لوگوں سے) ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں۔ کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔