اسراء · 76/111
ترجمہ تلفظ — اسراء
وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا ۝٧٦
Wa in kaadoo la yastafizzoonaka minal ardi liyukhri jooka minhaa wa izal laa yalbasoona khilaafaka illaa qaleelaa
📖 اردو ترجمہ
اور قریب تھا کہ یہ لوگ تمہیں زمین (مکہ) سے پھسلا دیں تاکہ تمہیں وہاں سے جلاوطن کر دیں۔ اور اس وقت تمہارے پیچھے یہ بھی نہ رہتے مگر کم
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • يَسْتَفِزُّونَكَ: آپ کو جلد بازی پر اکساتے، بے چین کرتے، یا آپ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کرتے۔
  • مِنَ الْأَرْضِ: اس سرزمین (مکہ) سے۔
  • لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا: تاکہ آپ کو وہاں سے نکال باہر کریں۔
  • لَا يَلْبَثُونَ: وہ ٹھہر نہ سکیں گے، قیام نہ کر سکیں گے۔
  • خِلَافَكَ: آپ کے بعد، آپ کے پیچھے۔
  • إِلَّا قَلِيلًا: مگر تھوڑی سی مدت۔

تفسیر:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی اور اطمینان دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے نبی! کفارِ مکہ اس قدر شدت اور ضد سے آپ کو اس سرزمین سے نکالنے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ قریب تھے کہ آپ کو بے چین کر کے مکہ سے باہر نکال دیں۔ وہ آپ کی تبلیغ اور دعوتِ حق سے تنگ آ چکے تھے، اور ان کی یہی آرزو تھی کہ آپ کو وطن سے جلاوطن کر دیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے عزائم کو ناکام بنایا اور آپ کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔

اللہ تعالیٰ مزید فرماتے ہیں کہ اگر وہ آپ کو اس سرزمین سے نکال بھی دیتے، تو ان کی یہ کامیابی زیادہ دیر پا نہ ہوتی۔ وہ آپ کے بعد اس زمین پر صرف تھوڑے دنوں تک رہ سکتے، پھر ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا اور وہ تباہ و برباد ہو جاتے۔ یہ دراصل اللہ کی سنت ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نبی کو نکال دیتی ہے، تو وہ اللہ کے عذاب کی مستحق ہو جاتی ہے۔

یہ آیت مبارکہ مسلمانوں کے لیے ایک عظیم سبق اور بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت خود فرماتا ہے، اور دشمنوں کی چالیں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں جب تک اللہ کی مرضی نہ ہو۔ نیز یہ بھی واضح ہے کہ اللہ اپنے نبی کو اس لیے محفوظ رکھتا ہے تاکہ دینِ حق کی اشاعت مکمل ہو سکے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب ہم حق پر ہوتے ہیں تو اللہ ہمارا مددگار ہوتا ہے، چاہے دشمن کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ ہمیں اپنے ایمان پر مضبوط رہنا چاہیے اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ کی نصرت ضرور آتی ہے۔ جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکالنے کی کوشش کی گئی، مگر اللہ نے آپ کو غلبہ عطا کیا اور آپ فاتحانہ انداز میں واپس تشریف لائے۔ یہی سنتِ الٰہیہ ہے کہ صبر و تقویٰ کے ساتھ اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنے والوں کو کبھی ذلت نہیں اٹھانی پڑتی، بلکہ اللہ انہیں عزت اور کامیابی عطا فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگیوں میں بھی اسی اصول کو اپنائیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 74-78 — اسراء

74وَلَوْلَا أَن ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدتَّ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا
اور اگر تم کو ثابت قدم نہ رہنے دیتے تو تم کسی قدر ان کی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے
75إِذًا لَّأَذَقْنَاكَ ضِعْفَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيرًا
اس وقت ہم تم کو زندگی میں (عذاب کا) دونا اور مرنے پر بھی دونا مزا چکھاتے پھر تم ہمارے مقابلے میں کسی کو اپنا مددگار نہ پاتے
76وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا
اور قریب تھا کہ یہ لوگ تمہیں زمین (مکہ) سے پھسلا دیں تاکہ تمہیں وہاں سے جلاوطن کر دیں۔ اور اس وقت تمہارے پیچھے یہ بھی نہ رہتے مگر کم
77سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِن رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا
جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے تھے ان کا (اور ان کے بارے میں ہمارا یہی) طریق رہا ہے اور تم ہمارے طریق میں تغیروتبدل نہ پاؤ گے
78أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ ۖ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا
(اے محمدﷺ) سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک (ظہر، عصر، مغرب، عشا کی) نمازیں اور صبح کو قرآن پڑھا کرو۔ کیوں صبح کے وقت قرآن کا پڑھنا موجب حضور (ملائکہ) ہے
اسراءقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
76آیت

ترجمہ — اسراء 76

سورہ اسراء آیت 76 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور قریب تھا کہ یہ لوگ تمہیں زمین (مکہ) سے…

سورہ آیت 76/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 74–78. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں