ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- عبداً: بندہ (یہاں مراد خاص بندہ، یعنی خضر علیہ السلام)
- رحمة: رحمت، خاص فضل و رحمت (نبوّت اور شفقت)
- من لدنّا: اپنی خاص بارگاہ سے، اپنے پاس سے
- علماً: علم (خاص علم جو عام لوگوں کو نہیں دیا جاتا)
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اس چٹان کے پاس پہنچے جہاں مچھلی گم ہوئی تھی، تو انہیں وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک خاص بندہ ملا، جو حضرت خضر علیہ السلام تھے۔ یہ ایک نہایت برگزیدہ اور صالح بندہ تھا، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا۔ یہ رحمت نبوّت اور شفقت پر مشتمل تھی، اور اللہ نے انہیں وہ علم عطا کیا تھا جو اس کی خاص بارگاہ سے ملا تھا، ایک ایسا علم جو عام لوگوں کے لیے قابلِ رسائی نہیں ہوتا، بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنے خاص بندوں کو عطا فرماتا ہے۔ یہ علم غیب کے اسرار و رموز پر مشتمل تھا، جو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے خضر علیہ السلام کو سکھایا تھا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی خاص رحمت اور علم سے نوازتا ہے، اور یہ اس کی مشیّت اور حکمت پر منحصر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ سے علمِ نافع اور رحمت کی دعا کریں، اور یہ سمجھیں کہ علمِ دین اور معرفتِ الٰہی سب سے بڑی دولت ہے۔ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے علم حاصل کرنے کے لیے سفر کیا، ہمیں بھی علم حاصل کرنے کے لیے محنت اور کوشش کرنی چاہیے، اور اللہ سے توفیق مانگنی چاہیے کہ وہ ہمیں اپنی خاص رحمت سے نوازے اور ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کے نیک بندوں کی صحبت اور ان سے علم حاصل کرنا بہت بڑی سعادت ہے، لہٰذا ہمیں اہلِ علم اور صالحین کی صحبت اختیار کرنی چاہیے تاکہ ہمیں بھی ان کے فیوض و برکات حاصل ہوں۔
📜 آیت 63-67 — کہف
ترجمہ — کہف 65
سورہ کہف آیت 65 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (وہاں) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا…سورہ آیت 65/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 63–67. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








