مریم · 37/98
ترجمہ تلفظ — مریم
فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِن بَيْنِهِمْ ۖ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِن مَّشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيمٍ ۝٣٧
Fakhtalafal ahzaabu mim bainihim fawailul lillazeena kafaroo mim mashhadi Yawmin `azeem
📖 اردو ترجمہ
پھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے باہم اختلاف کیا۔ سو جو لوگ کافر ہوئے ہیں ان کو بڑے دن (یعنی قیامت کے روز) حاضر ہونے سے خرابی ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِن بَيْنِهِمْ ۖ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِن مَّشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيمٍ

معانی الفاظ:

  • الْأَحْزَابُ: گروہ، فرقے، جماعتیں۔
  • مِن بَيْنِهِمْ: انہیں (یعنی اہلِ کتاب) میں سے۔
  • فَوَيْلٌ: ہلاکت، تباہی، عذاب۔
  • مَّشْهَدِ: حاضر ہونے کی جگہ، وہ مقام جہاں سب جمع ہوں گے۔
  • يَوْمٍ عَظِيمٍ: بڑے دن، یعنی قیامت کا دن۔

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملے میں اہلِ کتاب کے اختلاف کا ذکر فرمایا ہے۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا، تو ان کے بارے میں لوگوں کے درمیان سخت اختلافات پیدا ہو گئے اور وہ کئی گروہوں میں بٹ گئے۔

کچھ لوگ (نصاریٰ) حد سے بڑھ گئے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہہ دیا، بعض نے کہا کہ وہ خود اللہ ہیں، اور بعض نے کہا کہ وہ تین خداؤں میں سے ایک ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک اور بلند ہے۔ دوسری طرف یہودیوں نے ان کی شان میں بہت بڑی گستاخی کی، انہیں جھوٹا کہا اور ان پر تہمت لگائی۔ اس طرح لوگ مختلف فرقوں میں تقسیم ہو گئے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک برگزیدہ رسول اور اپنی طرف سے ایک عظیم نشانی بنا کر بھیجا تھا۔

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کافروں کے لیے ہلاکت اور تباہی ہے، اس بڑے دن کے مشاہدے سے جب وہ قیامت کے دن حاضر ہوں گے۔ اس دن کی ہولناکیاں اور وحشت ناک مناظر دیکھ کر انہیں اپنی غلطیوں اور کفر کا شدت سے احساس ہو گا، لیکن وہاں پشیمانی اور افسوس کے سوا کچھ حاصل نہ ہو گا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دین کے معاملے میں غلو اور کوتاہی دونوں ہی تباہ کن ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر نبی اور رسول کی شان میں ادب کا دامن تھامے رکھیں، انہیں اللہ کے بندے اور برگزیدہ رسول ہی سمجھیں، نہ انہیں خدا بنائیں اور نہ ان کی توہین کریں۔ یہی راہِ راست ہے جو نجات کا ذریعہ ہے۔

اور یاد رکھیں! قیامت کا دن یقینی طور پر آنے والا ہے، اس دن ہر شخص سے اس کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ جو لوگ حق کے راستے پر چلیں گے اور رسولوں کی تعلیمات پر عمل کریں گے، وہ اس دن کامیاب ہوں گے، اور جو لوگ کفر اور گمراہی پر اصرار کریں گے، ان کے لیے اس دن سخت عذاب اور ہلاکت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 35-39 — مریم

35مَا كَانَ لِلَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ ۖ سُبْحَانَهُ ۚ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ
خدا کو سزاوار نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ پاک ہے جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے
36وَإِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۚ هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ
اور بےشک خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے
37فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِن بَيْنِهِمْ ۖ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِن مَّشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيمٍ
پھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے باہم اختلاف کیا۔ سو جو لوگ کافر ہوئے ہیں ان کو بڑے دن (یعنی قیامت کے روز) حاضر ہونے سے خرابی ہے
38أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا ۖ لَٰكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
وہ جس دن ہمارے سامنے آئیں گے۔ کیسے سننے والے اور کیسے دیکھنے والے ہوں گے مگر ظالم آج صریح گمراہی میں ہیں
39وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
اور ان کو حسرت (وافسوس) کے دن سے ڈراؤ جب بات فیصل کردی جائے گی۔ اور (ہیہات) وہ غفلت میں (پڑے ہوئے ہیں) اور ایمان نہیں لاتے
مریمقرآن فہرست
98آیت
مکیRevelation
37آیت

ترجمہ — مریم 37

سورہ مریم آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے باہم اختلاف کیا۔ سو…

سورہ آیت 37/98 — مریم مريم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مریم سنیں, مریم ترجمہ, مریم mp3, مریم pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں