ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَعْتَزِلُكُمْ: میں تم سے اور تمہارے معبودوں سے الگ ہو جاتا ہوں، علیحدگی اختیار کرتا ہوں۔
- تَدْعُونَ: تم پکارتے ہو، جسے تم عبادت کے لیے پکارتے ہو۔
- مِن دُونِ اللہِ: اللہ کے سوا، اللہ کو چھوڑ کر۔
- شَقِیًّا: بدبخت، محروم، نامراد۔
تفسیر:
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی، لیکن جب انہوں نے سرکشی اور شرک پر اصرار کیا تو آپ نے ان سے بیزاری اور علیحدگی کا اعلان فرمایا۔ اس آیت میں آپ کا یہی اعلان بیان ہو رہا ہے۔
آپ فرماتے ہیں: "میں تم سے اور ان چیزوں سے جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، الگ ہو جاتا ہوں" یعنی میں تمہارے دین، تمہارے معبودوں، تمہاری عبادتوں اور تمہارے طرزِ زندگی سے مکمل براءت کا اعلان کرتا ہوں۔ میں ان بتوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتا جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، خواہ وہ پتھر کے بت ہوں، ستارے ہوں یا کوئی اور مخلوق۔
پھر فرماتے ہیں: "اور میں اپنے رب کو پکاروں گا" یعنی میں صرف اپنے رب کی عبادت کروں گا، اسی سے دعا کروں گا، اسی سے مدد مانگوں گا اور اسی کی طرف رجوع کروں گا۔ یہ توحید کا اعلیٰ ترین اعلان ہے۔
آخر میں فرماتے ہیں: "امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کر بدبخت نہ ہوں گا" یعنی مجھے یقین ہے کہ میرا رب میری دعا کو قبول فرمائے گا، میری عبادت کو ضائع نہیں کرے گا اور مجھے محروم نہیں رکھے گا۔ یہ ایک مومن کا وہ اعتماد ہے جو اسے اپنے رب پر ہوتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں کئی اہم سبق ملتے ہیں:
- حق پر قائم رہنا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تنہا ہونے کے باوجود حق بات کہنے اور باطل سے علیحدگی اختیار کرنے میں کوئی تردد نہیں کیا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ حق پر قائم رہیں، چاہے ہم تنہا ہی کیوں نہ ہوں۔
- توحید کی دعوت: یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دعوتِ توحید ہی اصل پیغام ہے۔ جب تک انسان اللہ کو واحد معبود نہیں مانتا، اس کی نجات ممکن نہیں۔
- اللہ پر بھروسہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ اعتماد کہ اللہ انہیں نامراد نہیں کرے گا، ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ پر کامل بھروسہ رکھیں۔ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اسے کبھی مایوس نہیں کرتا۔
- براءت سے محبت: جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے شرک سے براءت کا اعلان کیا، ہمیں بھی اپنے دلوں سے شرک اور کفر کی ہر شکل سے نفرت رکھنی چاہیے اور اپنے ایمان کو پاک رکھنا چاہیے۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ سچا مومن وہ ہے جو اللہ کی رضا کے لیے دنیا کی ہر چیز سے کنارہ کشی کر لے، صرف اللہ سے امید رکھے اور اس کی عبادت میں کبھی سستی نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی دعائیں ضرور قبول فرماتا ہے اور انہیں کبھی محروم نہیں رکھتا۔
📜 آیت 46-50 — مریم
ترجمہ — مریم 48
سورہ مریم آیت 48 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا…سورہ آیت 48/98 — مریم مريم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مریم سنیں, مریم ترجمہ, مریم mp3, مریم pdf. آیت 46–50. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








