مریم · 47/98
ترجمہ تلفظ — مریم
قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ ۖ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي ۖ إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا ۝٤٧
Qaala salaamun `alaika sa astaghfiru laka Rabbeee innahoo kaana bee hafiyyaa
📖 اردو ترجمہ
ابراہیم نے سلام علیک کہا (اور کہا کہ) میں آپ کے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • سَلامٌ عَلَيْكَ: تم پر سلام ہو، یعنی میں تمہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچاؤں گا۔
  • سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ: میں تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت کی دعا کروں گا۔
  • حَفِيًّا: بہت مہربان، لطف و کرم کرنے والا، یا جاننے والا اور قریب ہونے والا۔

تفسیر:

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کی سخت باتوں اور شرک پر اصرار کے باوجود نہایت نرمی اور محبت سے جواب دیا۔ انہوں نے فرمایا: "تم پر سلام ہو" یعنی میں تمہیں کوئی برائی نہیں پہنچاؤں گا، نہ تمہیں کوئی تکلیف دوں گا، اور نہ تم سے بدلہ لوں گا۔ یہ ان کی عظیم اخلاقی بلندی تھی کہ باپ نے انہیں دھمکایا اور سنگسار کرنے کی دھمکی دی، لیکن انہوں نے صرف یہ کہا کہ تم پر سلام ہو۔

پھر انہوں نے وعدہ کیا: "میں اپنے رب سے تمہارے لیے مغفرت طلب کروں گا" یعنی میں اللہ سے دعا کروں گا کہ وہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے گناہ معاف کر دے۔ یہ ان کی دعوت کا انداز تھا کہ وہ اپنے باپ کو نہ صرف نصیحت کر رہے تھے بلکہ اس کے لیے دعا بھی کر رہے تھے۔

آخر میں انہوں نے اپنے رب کی صفت بیان کی: "بے شک میرا رب مجھ پر بہت مہربان اور لطف فرمانے والا ہے" یعنی اللہ نے مجھ پر بہت احسان کیا ہے، مجھے ہدایت دی، علم عطا کیا، اور میری دعائیں قبول فرماتا ہے۔ اس لیے میں جانتا ہوں کہ وہ تمہاری مغفرت کی دعا بھی قبول فرمائے گا اگر تم توبہ کرو۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دعوتِ دین میں نرمی اور محبت کا انداز اختیار کرنا چاہیے، چاہے مخاطب کتنا ہی سخت کیوں نہ ہو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کے لیے دعا کریں، ان کی ہدایت کے لیے اللہ سے التجا کریں، اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اور وہ دعاؤں کو سنتا اور قبول کرتا ہے۔ اگر ہم اپنے پیاروں کی ہدایت کے لیے سچے دل سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ضرور ان کے دلوں کو نرم فرمائے گا۔ آئیے ہم بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اپنے والدین اور رشتہ داروں کے لیے دعا کریں، ان کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آئیں، اور انہیں اللہ کی رحمت کی طرف بلائیں۔



📜 آیت 45-49 — مریم

45يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَٰنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا
ابّا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو خدا کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں
46قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ ۖ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ ۖ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا
اس نے کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا
47قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ ۖ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي ۖ إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا
ابراہیم نے سلام علیک کہا (اور کہا کہ) میں آپ کے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے
48وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّي عَسَىٰ أَلَّا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا
اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار ہی کو پکاروں گا۔ امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا
49فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ۖ وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا
اور جب ابراہیم ان لوگوں سے اور جن کی وہ خدا کے سوا پرستش کرتے تھے اُن سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور (اسحاق کو) یعقوب بخشے۔ اور سب کو پیغمبر بنایا
مریمقرآن فہرست
98آیت
مکیRevelation
47آیت

ترجمہ — مریم 47

سورہ مریم آیت 47 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ابراہیم نے سلام علیک کہا (اور کہا کہ) میں آپ…

سورہ آیت 47/98 — مریم مريم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مریم سنیں, مریم ترجمہ, مریم mp3, مریم pdf. آیت 45–49. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں