اور ہم نے تمہارے پاس سلجھی ہوئی آیتیں ارسال فرمائی ہیں، اور ان سے انکار وہی کرتے ہیں جو بدکار ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
آیاتٍ بَیِّناتٍ: واضح اور روشن نشانیاں، جو حق کو باطل سے الگ کر دیں۔
فاسقون: وہ لوگ جو اللہ کے حکم سے نکل جائیں اور اس کی اطاعت سے سرتابی کریں۔
تفسیر:
اے نبیِ مکرم! اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف ایسی واضح اور روشن نشانیاں نازل فرمائی ہیں جو آپ کی نبوت و رسالت کی سچائی پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ آیات اپنے اندر حلال و حرام، حدود و احکام اور ہر اس چیز کی تفصیل رکھتی ہیں جو انسان کی رہنمائی کے لیے ضروری ہے۔ ان آیات کی روشنی اتنی واضح ہے کہ کوئی شخص انہیں دیکھ کر بھی انکار نہیں کر سکتا، مگر وہ لوگ جو اللہ کی اطاعت سے نکل چکے ہیں اور اپنے نفس کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی فاسق لوگ ہیں جو ان روشن نشانیوں کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ ان کے دلوں میں سچائی کا ادراک موجود ہوتا ہے، لیکن اپنی ضد اور سرکشی کی وجہ سے حق کو قبول نہیں کرتے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کا ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر یہ احسان کیا کہ انہیں واضح ہدایت عطا کی۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے اپنے دین کو ایسے واضح دلائل کے ساتھ پیش کیا کہ کسی بھی سچے طالبِ حق کے لیے راستہ روشن ہو گیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان آیات پر غور کریں اور انہیں اپنی زندگی میں نافذ کریں، کیونکہ یہی ہماری کامیابی کا ذریعہ ہیں۔ جو شخص ان روشن نشانیوں کو قبول کر لیتا ہے، وہ اللہ کی رحمت کے قریب ہو جاتا ہے اور جو انکار کرتا ہے، وہ اپنے نقصان کا سامان خود کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ دی ہے تاکہ ہم ان آیات پر تدبر کریں اور انہیں اپنے دلوں میں اتاریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی تک پہنچاتا ہے۔
کہہ دو کہ جو شخص جبرئیل کا دشمن ہو (اس کو غصے میں مر جانا چاہیئے) اس نے تو (یہ کتاب) خدا کے حکم سے تمہارے دل پر نازل کی ہے جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے
اور جب ان کے پاس الله کی طرف سے پیغمبر (آخرالزماں) آئے، اور وہ ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتے ہیں تو جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی، ان میں سے ایک جماعت نے خدا کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا، گویا وہ جانتے ہی نہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔