بقرہ · 132/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَوَصَّىٰ بِهَآ إِبۡرَٰهِـۧمُ بَنِيهِ وَيَعۡقُوبُ يَٰبَنِيَّ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصۡطَفَىٰ لَكُمُ ٱلدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسۡلِمُونَ  ۝١٣٢
Wa wassaa bihaaa Ibraaheemu baneehi wa Ya`qoob, yaa baniyya innal laahas tafaa lakumud deena falaa tamootunna illaa wa antum muslimoon
📖 اردو ترجمہ
اور ابرہیم نے اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی (اپنے فرزندوں سے یہی کہا) کہ بیٹا خدا نے تمہارے لیے یہی دین پسند فرمایا ہے تو مرنا ہے تو مسلمان ہی مرنا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • وَصّیٰ: تاکید کے ساتھ وصیت کی، نصیحت کی۔
  • بِهَا: اس (دینِ اسلام) کی طرف اشارہ ہے۔
  • اصْطَفٰی: چن لیا، پسند فرمایا۔
  • فَلَا تَمُوتُنَّ: تم ہرگز نہ مرنا۔

تفسیرِ آیت:

یہ آیتِ کریمہ ہمیں بتاتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو جو عظیم وصیت کی، وہ دراصل دینِ اسلام پر قائم رہنے کی تلقین تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام کو، اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بارہ بیٹوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "اے میرے بیٹو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دینِ اسلام کو پسند فرمایا ہے، یہ وہ دین ہے جو تمام انبیاء کا دین رہا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو اللہ تک پہنچاتا ہے۔"

پھر انہوں نے اپنی اولاد کو سب سے اہم نصیحت یہ فرمائی کہ "تم ہرگز موت نہ پاؤ مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔" یعنی تمہاری زندگی کا ہر لمحہ اسلام پر ہو، تمہارا دل اسلام پر ہو، تمہارا عمل اسلام پر ہو، اور جب موت آئے تو وہ تمہیں اسلام کی حالت میں ہی پائے۔

یہ وصیت صرف حضرت ابراہیم اور یعقوب علیہما السلام کی اپنی اولاد تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہر مسلمان کے لیے ایک عظیم سبق ہے۔ ہمیں بھی اپنی زندگی کا مقصد یہی بنانا چاہیے کہ ہم اسلام پر ثابت قدم رہیں اور اپنی اولاد کو بھی اسی کی تلقین کریں۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا غور کریں، انبیاءِ کرام علیہم السلام نے اپنی پوری زندگی میں جو سب سے اہم چیز اپنی اولاد کو سکھائی، وہ دینِ اسلام پر استقامت تھی۔ آج ہم بھی اپنے بچوں کو جو سب سے بڑی وراثت دے سکتے ہیں، وہ ایمان اور تقویٰ ہے۔ دولت اور جائیداد تو ختم ہو جاتی ہے، لیکن ایمان وہ سرمایہ ہے جو آخرت میں بھی کام آئے گا۔

اللہ تعالیٰ نے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ہمیں دینِ اسلام جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی۔ ہمیں چاہیے کہ اس نعمت کی قدر کریں، اس پر قائم رہیں، اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی اسی دین کی تلقین کریں۔ یاد رکھیں، جس شخص کی موت ایمان کی حالت میں ہوگی، وہ کامیاب ہے، چاہے دنیا میں اس کے پاس کتنا ہی کم مال ہو۔ اور جس کی موت ایمان کے بغیر ہوئی، وہ نقصان میں ہے، چاہے دنیا کی ساری دولت بھی اس کے پاس ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری اولاد کو دینِ اسلام پر ثابت قدم رکھے، اور ہماری موت ایمان کی حالت میں فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 130-134 — بقرہ

130وَمَن يَرۡغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبۡرَٰهِـۧمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفۡسَهُۥۚ وَلَقَدِ ٱصۡطَفَيۡنَٰهُ فِي ٱلدُّنۡيَاۖ وَإِنَّهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ 
اور ابراہیم کے دین سے کون رو گردانی کر سکتا ہے، بجز اس کے جو نہایت نادان ہو۔ ہم نے ان کو دنیا میں بھی منتخب کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ (زمرہٴ) صلحا میں سے ہوں گے
131إِذۡ قَالَ لَهُۥ رَبُّهُۥٓ أَسۡلِمۡۖ قَالَ أَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ 
جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سر اطاعت خم کرتا ہوں
132وَوَصَّىٰ بِهَآ إِبۡرَٰهِـۧمُ بَنِيهِ وَيَعۡقُوبُ يَٰبَنِيَّ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصۡطَفَىٰ لَكُمُ ٱلدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسۡلِمُونَ 
اور ابرہیم نے اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی (اپنے فرزندوں سے یہی کہا) کہ بیٹا خدا نے تمہارے لیے یہی دین پسند فرمایا ہے تو مرنا ہے تو مسلمان ہی مرنا
133أَمۡ كُنتُمۡ شُهَدَآءَ إِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوبَ ٱلۡمَوۡتُ إِذۡ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعۡبُدُونَ مِنۢ بَعۡدِيۖ قَالُواْ نَعۡبُدُ إِلَٰهَكَ وَإِلَٰهَ ءَابَآئِكَ إِبۡرَٰهِـۧمَ وَإِسۡمَٰعِيلَ وَإِسۡحَٰقَ إِلَٰهًا وَٰحِدًا وَنَحۡنُ لَهُۥ مُسۡلِمُونَ 
بھلا جس وقت یعقوب وفات پانے لگے تو تم اس وقت موجود تھے، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے، تو انہوں نے کہا کہ آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو معبود یکتا ہے اور ہم اُسی کے حکم بردار ہیں
134تِلۡكَ أُمَّةٌ قَدۡ خَلَتۡۖ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَكُم مَّا كَسَبۡتُمۡۖ وَلَا تُسۡـَٔلُونَ عَمَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ 
یہ جماعت گزرچکی۔ ان کو اُن کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
132آیت

ترجمہ — بقرہ 132

سورہ آیت 132/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 130–134. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں