پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کر دیا بے شک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَتَلَقَّىٰ: قبول کیا، اپنے دل میں جگہ دی، سمجھ بوجھ کے ساتھ اپنایا۔
كَلِمَاتٍ: وہ کلمات جو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو سکھائے اور ان کی توبہ کا ذریعہ بنے۔
فَتَابَ عَلَيْهِ: اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور ان پر رحمت کی نظر ڈالی۔
التَّوَّابُ: بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا۔
الرَّحِيمُ: بے حد رحم فرمانے والا۔
تفسیر:
جب حضرت آدم علیہ السلام سے لغزش ہوئی اور وہ جنت سے نکالے گئے، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی رحمت کا دروازہ بند نہیں کیا، بلکہ انہیں توبہ کے کلمات سکھائے۔ یہ کلمات وہی ہیں جو سورۃ الأعراف میں مذکور ہیں: "رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ" یعنی "اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو ہمیں معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔"
حضرت آدم علیہ السلام نے ان کلمات کو قبول کیا، انہیں سمجھا، اور ان کے ذریعے اللہ سے توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، ان کی لغزش معاف کی، اور انہیں رحمت سے نوازا۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے، چاہے گناہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، بشرطیکہ بندہ خلوص دل سے توبہ کرے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق اور خوشخبری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول کی، حالانکہ وہ نبی تھے اور ان کی لغزش بھی بھولنے کی وجہ سے تھی۔ تو پھر ہم گنہگاروں کے لیے کیوں مایوسی ہو؟ اللہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے، بس شرط یہ ہے کہ ہم سچے دل سے توبہ کریں، اپنے گناہوں پر نادم ہوں، اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نام "التواب" اور "الرحیم" سے یہ واضح فرما دیا کہ وہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور ان پر رحمت نازل فرماتا ہے۔ لہٰذا اے بندے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اٹھ، توبہ کر، اور اللہ کے قریب ہو جا۔ وہ تجھے معاف کر دے گا، چاہے تیرے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے
پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش ونشاط) میں تھے، اس سے ان کو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں سے) چلے جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے
ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔