بقرہ · 37/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ۝٣٧
Fatalaqqaaa Aadamu mir Rabbihee Kalimaatin fataaba `alayh; innahoo Huwat Tawwaabur Raheem
📖 اردو ترجمہ
پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کر دیا بے شک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَتَلَقَّىٰ: قبول کیا، اپنے دل میں جگہ دی، سمجھ بوجھ کے ساتھ اپنایا۔
  • كَلِمَاتٍ: وہ کلمات جو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو سکھائے اور ان کی توبہ کا ذریعہ بنے۔
  • فَتَابَ عَلَيْهِ: اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور ان پر رحمت کی نظر ڈالی۔
  • التَّوَّابُ: بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا۔
  • الرَّحِيمُ: بے حد رحم فرمانے والا۔

تفسیر:

جب حضرت آدم علیہ السلام سے لغزش ہوئی اور وہ جنت سے نکالے گئے، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی رحمت کا دروازہ بند نہیں کیا، بلکہ انہیں توبہ کے کلمات سکھائے۔ یہ کلمات وہی ہیں جو سورۃ الأعراف میں مذکور ہیں: "رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ" یعنی "اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو ہمیں معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔"

حضرت آدم علیہ السلام نے ان کلمات کو قبول کیا، انہیں سمجھا، اور ان کے ذریعے اللہ سے توبہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، ان کی لغزش معاف کی، اور انہیں رحمت سے نوازا۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے، چاہے گناہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، بشرطیکہ بندہ خلوص دل سے توبہ کرے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق اور خوشخبری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول کی، حالانکہ وہ نبی تھے اور ان کی لغزش بھی بھولنے کی وجہ سے تھی۔ تو پھر ہم گنہگاروں کے لیے کیوں مایوسی ہو؟ اللہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے، بس شرط یہ ہے کہ ہم سچے دل سے توبہ کریں، اپنے گناہوں پر نادم ہوں، اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نام "التواب" اور "الرحیم" سے یہ واضح فرما دیا کہ وہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور ان پر رحمت نازل فرماتا ہے۔ لہٰذا اے بندے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اٹھ، توبہ کر، اور اللہ کے قریب ہو جا۔ وہ تجھے معاف کر دے گا، چاہے تیرے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 35-39 — بقرہ

35وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ
اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے
36فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ ۖ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ
پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش ونشاط) میں تھے، اس سے ان کو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں سے) چلے جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے
37فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کر دیا بے شک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے
38قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
39وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
اور جنہوں نے (اس کو) قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، وہ دوزخ میں جانے والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
37آیت

ترجمہ — بقرہ 37

سورہ بقرہ آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور…

سورہ آیت 37/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں